.

اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کے مکان مسمار کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غربِ اردن میں تین مبیّنہ فلسطینی حملہ آوروں کے مکان مسمار کردیے ہیں۔صہیونی فوج کے بیان کے مطابق ان فلسطینیوں نے فروری میں مقبوضہ بیت المقدس میں ایک خاتون سکیورٹی افسر کو ہلاک اور ایک کو شدید زخمی کردیا تھا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ سوموار کو علی الصبح تین فلسطینی مردوں کے مکانوں کو ڈھانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔انھوں نے ایک سکیورٹی چیک کے دوران بندوق اور چاقو سے حملہ کر کے ایک انیس سالہ خاتون افسر کو ہلاک کردیا تھا۔ان تینوں کو بھی اسرائیلی افسروں نے موقع پر ہی گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا تھا۔

اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنیامین نیتن یاہونے گذشتہ سال اکتوبر میں فلسطینی نوجوانوں کے حملوں کی روک تھام اور ان کی حوصلہ شکنی کے لیے ان کے مکانوں کو مسمار کرنے کی منظوری دی تھی۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی خاندانوں کے مکانوں کو ڈھانے کا اقدام حملوں کو روکنے میں موثر ثابت ہوا ہے لیکن ناقدین نے اس ہتھکنڈے کو فلسطینی خاندانوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں یکم اکتوبر سے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی تشدد آمیز کارروائیوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد قریباً دو سو ہوچکی ہے۔ان میں سے بیشتر کے بارے میں اسرائیلی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آور تھے۔ان کے مبینہ چاقو حملوں ،فائرنگ یا گاڑیوں کو راہ گیروں پر چڑھانے کے واقعات میں 28 اسرائیلی ، دو امریکی ،ایک سوڈانی اور ایک ایریٹرین شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔