.

ایران کا شام میں ایلیٹ فورس بھجوانے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے تسلیم کیا ہے کہ شام میں حکومت مخالف باغی گروپوں سے لڑنے کے لیے پاسداران انقلاب کے فوجی افسران اور جوانوں کے ساتھ ساتھ ایلیٹ فورس کے دستے بھی دمشق بھجوائے گئے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’تسنیم‘‘ نے بری فوج کے معاون رابطہ کار امیرعلی آراستہ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا ماننا ہے کہ تہران نے اسپیشل کمانڈو یونٹ کے اہلکار اور ایلیٹ فورس کے دستے شام بھجوائے ہیں جو شامی فوج اور اس کی حامی ملیشیا کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔

مسٹر امیر علی آراستہ کا کہنا ہےکہ ایران کی جانب سے بری فوج کے زیرانتظام بریگیڈ 65 کے کمانڈوز اور ایلیٹ فورس کی دیگر یونٹوں کے افسر اور سپاہی شام میں بھجوائے ہیں جو دمشق میں سرکاری فوج کی مشاورتی رہ نمائی کا کام کررہے ہیں۔

ادھر ایرانی مسلح افواج کی ترجمان ویب سائیٹ ’’دفاع پریس‘‘ کی جانب سے شام میں لڑنے والے ایرانی حمایت یافتہ گوریلا عسکری گروپ ’’فاطمیون‘‘ کے جنگجوؤں کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔ ویب سائیٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب شام میں جنگجوؤں کو باغیوں سے لڑنے کی باضابطہ تربیت فراہم کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران میں ایلیٹ فورس کے بھجوائے جانے کا تازہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب تہران کو گذشتہ دو روز کے دوران شام سے اپنے متعدد فوجی افسروں اور جوانوں کی لاشوں کےتحفے بھجوائے گئے ہیں۔ حال ہی میں شام میں ہلاک ہونے والے ایرانی فوجی افسروں کی شناخت پاسداران انقلاب کےبیرون ملک گروپ 24 کے سربراہ کرنل ماشاء اللہ شمسیہ، اصطبھان شہر سے تعلق رکھنے والے محسن الہی، سعید مسافر اور جمال رضی کے ناموں سے کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ شام میں پچھلے پانچ سال سے جاری لڑائی کے دوران ایران کے 1000 سے زیادہ سینیر فوجی افسران اور سرکاری فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ شام میں اس کے فوجی بشارالاسد کی وفادار فورسز کی مشاورتی رہ نمائی میں سرگرم ہیں مگر ایران کے بیشتر فوجی محاذ جنگ پرلڑتے ہوئے ہلاک ہوئے ہیں۔