.

شامی فوج کی داعش کے خلاف جنگ میں پیش قدمی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے وسطی صوبے حمص میں داعش کے خلاف اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور ان کے درمیان قصبے القریتین کے نواح میں سوموار کو جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

شامی فورسز نے اتوار کے روز اس قصبے پر قبضہ کر لیا تھا۔گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ان کی داعش کے خلاف جنگ میں یہ دوسری بڑی فتح ہے۔گذشتہ اتوار کو شامی فوج نے روسی فضائیہ کی مدد سے تاریخی شہر تدمر کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی اطلاع کے مطابق فوج کی داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ القریتین کے علاوہ تدمر کے مشرق اور شمال میں واقع فارموں میں بھی لڑائی ہورہی تھی۔

القریتین میں شکست کے بعد داعش کے جنگجو وسطی شام میں ایک بڑے اور اہم اڈے سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور شامی فورسز اب وہاں سے عراق کی سرحد کے نزدیک داعش کے زیر قبضہ علاقوں پر حملوں کا آغاز کرسکتی ہیں۔

القریتین تدمر اور دارالحکومت دمشق کے درمیان شاہراہ پر واقع ہے۔گذشتہ سال موسم گرما میں داعش کی اس قصبے پر یلغار سے قبل اس کی آبادی قریباً چالیس ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ان میں اکثریت سنی مسلمانوں کی تھی۔اس قصبے میں عیسائی بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ان میں کی اکثریت اسلامی جنگجوؤں کی یلغار کے بعد اپنا گھربار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب چلی گئی تھی۔

داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ سال اگست میں القریتین پر قبضے کے بعد متعدد عیسائیوں اور دوسرے افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ان میں بعض کو جزیہ ادا کرنے سے اتفاق پر رہا کردیا گیا تھا۔