.

علوی رہ نماؤں کا اہل تشیع اور بشار الاسد سے اعلان لا تعلقی

حکمران قبیلے کے سرکردہ رہ نماؤں کی دستاویز منظرعام پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام میں جہاں صدر #بشار_الاسد کی فوج نے #روس کی معاونت سے بعض علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرکے اپنی گرتی ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کی ہے وہیں صدر اسد کے لیے بری خبر یہ ہے کہ اس کے اپنے قبیلے کے سرکردہ رہ نماؤں ان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق #علوی قبیلے کے رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ ان کا بشار الاسد اور شیعہ مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ بشار الاسد سے مکمل طور پر لا تعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے’بی بی سی‘ کو علوی قبیلے کی ایک دستاویز ہاتھ لگی ہے جس میں قبیلے کے ایک سرکردہ رہ نما کا کہنا ہے کہ ان کا قبیلہ اسلام میں تیسرا عملی نمونہ ہے۔

دستاویز میں بیان کردہ بیانات کو غیرمعمولی اور انتہائی اہمیت کے حامل قرار دیا گیا ہے۔ علوی رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ علوی شیعہ فرقہ نہیں ہے۔ اسی طرح علوی رہ نماؤں کو اہل تشیع کا نمائندہ نہ سمجھا جائے۔ ماضی میں علویوں کو شیعوں اور بشارالاسد کے ساتھ نتھی کیا جاتا رہا ہے۔ یہ قبیلہ ملک میں فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل رہا ہے۔

دستاویز میں علوی رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ وہ تمام انسانوں کے درمیان مساوات، آزادی اور مساوی بنیادوں پر شہری حقوق کی تقسیم کے قائل ہیں اور شام میں سیکولر نظام حکومت کے حامی ہیں۔ شام میں مستقبل میں مسلمان، عیسائی اور دوسرے مذاہب کے پیروکار یکساں حقوق سےمستفید ہوسکیں گے۔

علوی زعماء کا مزید کہنا ہے کہ ان قبیلہ گذشتہ چالیس سال سے ملک کے سیکیورٹی اور سیاسی اداروں پر حاوی رہا ہے۔ ہمارا اس بات پرایمان اور یقین ہے کہ کسی بھی نظام حکومت کی آئینی حیثیت اس کے جمہوری پیمانے اور انسانی حقوق کی پاسداری ہونی چاہیے۔

دستاویز میں مزید کہا گیا کہ ہے کہ علوی شیعہ نہیں اور نہ اہل تشیع کے فقہا کےفتاویٰ کو تسلیم کرتےہیں۔ لہٰذا علویوں کو شیعوں کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم تمام آسمانی مذاہب کے یکساں احترام کے قائل ہیں۔ شام میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ یہودی اور عیسائی بھی مساوی شہری حقوق رکھتے ہیں۔ یہی ہماری میراث اور پوری دنیا میں ہماری پہچان ہے۔

ایک علوی رہ نما نے دستاویز سے متعلق بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہم نے یہ دستاویز اس لیے جاری کی ہے تاکہ اپنی پوزیشن واضح کرسکیں کیوں کہ بڑی تعداد میں علوی ان کے عقیدے کی بناء پر قتل کیے جا چکےہیں۔

علوی رہ نما نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسلام کے تمام فرقے آپس میں بھائیوں کی مانندہیں۔ شام میں سرکاری جرائم کی ذمہ داری علویوں کے سرنہیں تھوپی جانی چاہیے۔ نیز یہ کہ شام کا مستقبل اب شامی عوام اور عالمی برادری کے ہاتھ میں ہے۔

خیال رہے کہ شام میں علوی ایک بڑا طبقہ شمار ہوتے ہیں جن سرکاری اور سیکیورٹی اداروں میں بھی گہرا اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔ مجموعی طورپر یہ قبیلہ ملک کی 12 فی صد آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ شام میں پانچ سال قبل شروع ہونے والی بغاوت سے قبل ملک میں علوی قبیلے کے لوگوں کی تعداد 24 ملین [دو کروڑ چالیس لاکھ] تھی۔

مبصرین کا خیال ہے کہ شام میں علوی قبیلے کے رہ نماؤں کی جانب سے بشارالاسد کے ساتھ اعلان لا تعلقی پر مبنی دستاویز نہایت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے قبل سنہ 1949ء یا سنہ 1971ء کی خانہ جنگیوں میں بھی اس نوعیت کا کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

بی بی سی نے مذکورہ دستاویز میں شامل علوی رہ نماؤں کے نام ان کی سلامتی کے نقطہ نظر سے ظاہر نہیں کیے ہیں کیونکہ خدشہ ہے کہ نام سامنے آنے کے بعد علوی رہ نماؤں کو اسدی گماشتوں کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔