.

شام : الرقہ میں سولیاں.. "داعش کے شہر" کا عام منظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شہر الرقہ میں شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو جب شہر میں قتل اور سولی دیے جانے کے مناظر نہ دیکھے جائیں۔ ان مناظر کا شام سے کوئی میل نہیں تھا مگر جس روز سے داعش تنظیم نے شہر میں اپنا ٹھکانا بسایا ہے، یہ مناظر یہاں کی پہچان بن گئے۔ داعش الرقہ شہر کو اپنا مضبوط دارالخلافہ شمار کرتی ہے اور شہر کو آہنی ہاتھ کے ساتھ کنٹرول کرتی ہے۔ الرقہ میں ابھی تک سکونت پذیر ایک نوجوان جسے ہم "الف" کا نام دے رہے ہیں، اس کا کہنا ہے کہ صورت حال اس حد تک ابتر ہوچکی ہے کہ شہر کے بیچ کسی بھی مقتول یا سولی پر لٹکے ہوئے شخص کا منظر "داعش کے شہر" میں معمول کی بات بن گیا ہے۔

داعش کی مہم "الرقہ میں خاموش ذبیحہ" کی طرف سے "امين سرور" نامی ایک نوجوان کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔ اس نوجوان کو اسی مہم کی جاسوسی کرنے کےالزام میں المشلب کے علاقے میں سولی دی گئی۔

"الف" کے مطابق افراد پر الزامات عائد کرکے ان کے خلاف قتل، سولی دینے، قید میں ڈالنے اور اونچائی سے نیچے پھینک دینے کے احکامات جاری کردیے جاتے ہیں۔ ان تمام امور میں تنظیم کی طرف سے ان لوگوں کے سامنے کوئی ثبوت یا شواہد پیش نہیں کیے جاتے جو اپنے شہر، علاقے اور گاؤں کے فرزندان کے خلاف ان احکامات پر عمل درامد کے مناظر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

داعش کی مہم "الرقہ میں خاموش ذبیحہ" کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر بتایا گیا ہے کہ تنظیم نے دو روز قبل 8 لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ اس کے بعد ان افراد کو الرقہ کے مغربی نواح میں واقع المنصورہ شہر میں سولی پر لٹکادیا گیا۔ ان افراد پر "زمین میں فساد پھیلانے" کا الزام عائد کیا گیا۔

"الف" کا کہنا ہے کہ جو کوئی داعش کی چاہت کی ذرا سی بھی مخالفت کرتا ہے اس کو سزا بھگتنا پڑتی ہے۔ جو کوئی داعش کی جانب سے مسلط کردہ لازمی شرعی کورس نہیں کرنے جاتا اس کے لیے تنظیم نے 3 ماہ جیل کی سزا رکھی ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی رصدگاہ نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ داعش نے اپنے 15 ارکان کو موت کی نیند سلا دیا۔ یہ شام میں داعش کی فورس کی جانب سے اپنی نوعیت کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔