.

شام: النصرہ فرنٹ کے ترجمان ابو فراس السوری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کی رصدگاہ کے مطابق ملک کے شمالی صوبے اِدلب میں اتوار کے روز ہونے والے فضائی حملوں میں النصرہ فرنٹ تنظیم کے سرکاری ترجمان ابو فراس السوری، ان کا بیٹا اور 20 دیگر جنگجو ہلاک ہو گئے۔

شامی رصدگاہ نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے 20 جنگجوؤں کا تعلق النصرہ فرنٹ، جند الاقصیٰ اور دیگر مسلح گروپوں سے تھا اور ان میں ازبک شہریت رکھنے والے عسکریت پسند شامل تھے۔ لڑاکا طیاروں نے ادلب شہر کے شمال مغرب میں واقع گاؤں کفر جالس میں جند الاقصی کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانے کے علاوہ ادلب کے شمالی نواحی علاقے میں جند الاقصی اور النصرہ فرنٹ کے ٹھکانوں پر بھی بمباری کی۔

انسانی حقوق کی شامی رصدگاہ ابھی تک اس بات کا تعین نہیں کرسکی ہے کہ یہ حملے روسی طیاروں کے تھے یا پھر شامی حکومت کے زیرانتظام فضائیہ کے۔

ابوفراس السوری ایک معروف شخصیت کے حامل تھے اور النصرہ فرنٹ تنظیم میں ان کے بہت سے پیروکار شامل ہیں۔ یہ تنظیم سیاست سے لے کر فقہی امور تک حساس معاملات میں اپنا موقف جاری کرتی رہتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ابو فراس النصرہ فرنٹ کے بانی ممبران میں سے تھے۔ وہ 80ء کی دہائی میں افغانستان میں بھی لڑچکے ہیں اور فرنٹ کی مجلس شوری کے ایک اہم رکن تھے۔ ابو فراس ماضی میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے ساتھ بھی کام کرچکے ہیں۔

شام میں لڑائی کی کارروائیاں روکنے کے لیے ہونے والا کمزور سا معاہدہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے ابھی تک قائم ہے، جب کہ بہت سے فریق شام میں پانچ سال سے جاری جنگ کو روکنے کے لیے مذاکرات کی کوشش کررہے ہیں۔