.

عراق: سنی سیاست دان وزیرخارجہ مقرر، ایران ناراض!

شریف علی بن حسین عراق کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے اپنی کابینہ میں اہم تبدیلیاں لاتے ہوئے سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے سابق شاہی خاندان کے ایک سرکردہ سیاست دان الشریف علی بن الحسین کو وزارت خارجہ کا عہدہ سونپنے پر #ایران نے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ شاہی خاندان اور سنی مسلک کا وزیرخارجہ عراق کو ایران سے دور اور عرب ممالک کے قریب کرنے کا موجب بنے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے حال ہی میں اپنی کابینہ میں ٹیکنوکریٹ کی نشست پر سابق شاہی خاندان کے چشم وچراغ اور اہل سنت سے تعلق رکھنے والے الشریف علی بن الحسین کو ابراہیم الجعفری کی جگہ نیا وزیر خارجہ نامزد کیا ہے۔ گوکہ وزیراعظم کے اس فیصلے کو عراقی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد ہی نافذ کیا جائے گا، مگرایران کو یہ خدشہ ہے کہ اگر عراقی پارلیمنٹ نے #شریف_علی کو وزیرخارجہ کے طورپر اعتماد کا ووٹ دے دیا تو اس کے نتیجے میں #تہران کی #بغداد پر گرفت ڈھیلی پڑجائے گی۔

ایران کے ایک نیوزویب پورٹل ’’عصر ایران‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں شریف علی بن الحسین کو عراق کے وزیرخارجہ کاعہدہ سونپنے جانے پر تہران سرکاری کی تشویش کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ شریف علی بن حسین کی بہ طور وزیرخارجہ تقرری پر ایران کو سخت تشویش لاحق ہے کیونکہ ایک سنی وزیرخارجہ عراق کو ایران سےدور اور عرب ممالک بالخصوص خلیجی ملکوں کے قریب کرنے کا ذریعہ ثابت ہوگا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں سنی مسلک کے سیاست دان کو وزیرخارجہ مقرر کرنا بغداد کی خارجہ پالیسی میں جوہری تبدیلی کا اشارہ ہے کیونکہ سنہ 2003ء میں سابق صدر صدام حسین کا تختہ الٹے جانے کے بعد کسی سنی شخصیت کو وزارت خارجہ کا قلم دان نہیں سونپا گیا۔ پچھلے تیرہ سال میں عراق میں ایران نواز کرد اور شیعہ سیاست دان ہی وزارت خارجہ کے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

عراق کے عرب ممالک سے تعلقات

ایرانی نیوز ویب پورٹل کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق بغداد میں سنی شخصیت کو وزیرخارجہ مقرر کرنا حکومت کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ بغداد حکومت کے اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ عراق بہ تدریج ایران سے دور اور عرب ممالک بالخصوص خلیجی ملکوں کے قریب تر ہو رہا ہے۔ سنی وزیرخارجہ عرب ممالک کے ساتھ عراق کے تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق سبکدوش ہونے والے وزیرخارجہ ابراہیم الجعفری جو عراق میں شیعہ الائنس کے سربراہ بھی ہیں ایران کے نہایت قریب سمجھے جاتے ہیں۔ اگرعراقی پارلیمنٹ شریف علی بن الحسین کو وزارت خارجہ کے لیے اعتماد کاووٹ نہیں دیتی ہے تو عراق ایران کے قریب رہے گا ورنہ عراق کی عرب ممالک سے قربت بڑھتی چلی جائے گی۔

خیال رہے کہ عراق کے سبکدوش وزیرخارجہ عرب ممالک بالخصوص خلیجی ملکوں کے حوالے سے اپنے بیانات کی وجہ سے متنازع ہونے کے باعث تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ چند ہفتے قبل عرب لیگ کے اجلاس میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر انہوں نے واویلا کیا تھا اور حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینے کی مخالفت میں ووٹ ڈالا تھا۔

نو منتخب وزیرخارجہ کی المالکی سے قربت

وزیراعظم #حیدر_العبادی کی جانب سے وزارت خارجہ کے لیے ایک ایسی شخصیت کو منتخب کیا ہے جوسنی مسلک کے پیروکار ہونے کے ساتھ ساتھ سابق شاہی خاندان کے فرزند اور سابق وزیراعظم نوری المالکی کے بھی کافی قریب رہے ہیں۔

نوری المالکی نے پارلیمانی انتخابات میں اپنی قیادت میں قائم دولت القانون میں انہیں انتخابی امیدوار بھی نامزد کیا تھا تاہم وہ الیکشن نہیں جیت سکے تھے۔

اپنے ایک بیان میں شریف علی بن الحسین کا کہنا ہے کہ ’مجھے وزارت خارجہ کے عہدے کے لے نامزد کرنا عراق قوم کے مطالبات کی ترجمانی ہے۔ میں اللہ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ ملک وقوم کی عزت وقار کے لیے ہرممکن قدم اٹھائوں گا اور بیرون ملک عراق کا مقام بلند کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑوں گا۔ میں اپنے پیش رو کے نقش قدم پرنہیں چلنا چاہتا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری سے میرے ذاتی تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں مگر ملک کی خارجہ سیاست کے حوالے سے میرا نقطہ نظر الگ ہے۔ ابراہیم الجعفری نے خطے کی سیاست کو سمجھنے میں غلطی کی ہے جس کے نتیجے میں پڑوسی ملکوں کے ہاں عراق کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوا۔

شریف علی بن حسین کون؟

عراق کے نو منتخب وزیرخارجہ شریف علی بن الحسین عراق کے اس شاہی خاندان کے چشم وچراغ ہیں جس کا تختہ سنہ 1958ء میں عبدالکریم قاسم کی قیادت میں برپا ہونے والے خونی فوجی انقلاب کے نتیجے میں الٹ دیا گیا تھا۔ شریف بن علی طویل عرصہ تک برطانیہ میں جلا وطن کے طورپر زندگی بسرکرتے رہے ہیں۔ سنہ 2003ء میں صدام حکومت کے خاتمے کے بعد وہ وطن واپس آئے اور ایک بار پھر ملک میں شاہی نظام کی بحالی کے لیے سیاسی جدو جہد شروع کی ہے۔

سنہ 1956ء کو پیدا ہونے والے شریف بن علی بن الحسین نے لبنان اور برطانیہ میں طویل جلا وطنی کاٹی۔ انہوں نےبرطانیہ سے اکنامکس میں ایم بی اے کیا اور اب بغداد میں شاہی دستوری تحریک کی قیادت کررہے ہیں۔

بن الحسین کو شاہ عراق کا آئینی وارث سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ شاہ فیصل دوم کےخالہ زاد بھی اور شاہی خاندان کے اہم ترین فرد ہیں۔ ان کے والد الشریف الحسین بن علی سنہ 1908ء میں مکہ کے گورنر بھی رہے جب کہ والدہ شہزادہ بدیعہ بنت الملک علی بن الحسین اول شاہ فیصل دوم کی خالہ تھیں۔

شریف علی بن الحسین کو سابق فوجی آمر #صدام_حسین کا بھی کٹرمخالف سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے سنہ 1991ء میں سرمایہ کاری بورڈ کی ملازمت ترک کرتے ہوئے عراق نیشنل کانگریس کی رکنیت اختیار کی تھی اور صدام حسین کے خلاف جدو جہد کا آغاز کردیا تھا۔