.

ایران: خامنہ ای غضب ناک، رفسنجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی میڈیا کے مطابق ملک میں تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ اکبر ہاشمی رفسنجانی کے سماجی رابطے کی ویب سائٹوں ٹوئیٹر، انسٹاگرام اور ٹیلیگرام وغیرہ پر اکاؤنٹس کو بند کردیا گیا ہے۔ یہ اقدام ان کے اور ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے درمیان مختلف سیاسی معاملات پر اختلافات کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔ ان معاملات میں ایران کا میزائل پروگرام سرفہرست ہے۔

ایرانی ویب سائٹ "تابناک" کے مطابق رفسنجانی کے اکاؤنٹس کو اس ٹوئیٹ کے بعد بند کیا گیا ہے جس نے مرشد اعلی خامنہ ای کو چراغ پا کر دیا تھا۔ اس ٹوئیٹ میں رفسنجانی نے کہا تھا کہ " یہ میزائلوں کا نہیں بلکہ مذاکرات کا زمانہ ہے"۔

اگرچہ رفسنجانی نے خامنہ ای کی جانب سے جاری بیان کے بعد(جس میں انہوں نے ہوش و حواس میں ٹوئیٹ کرنے کی صورت میں رفسنجانی کو غدار قرار دیا تھا) اپنے ٹوئیٹ میں ترمیم کر لی تھی۔ تاہم متشدد گروپ کا میڈیا حسب سابق مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گیا اور ان پر "غداری اور حالت جمود" کے الزامات عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

خود پر جاری تنقید کے بعد رفسنجانی اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئے اور پھر تہران کے میزائل پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی میزائل نظام کو جدید تر بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض ذرائع ابلاغ کی جانب سے ٹوئیٹر پر ان کے ٹوئیٹ کو تحریف کے ساتھ پیش کیا۔

اس پیش رفت کے بعد بھی خامنہ ای کے نزدیک شمار کی جانے والی شدت پسند قوتوں نے اس کشیدہ فضا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رفسنجانی پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھا اور ان میں سے بعض نے تو ان کو نظربند کرنے کا بھی مطالبہ کر ڈالا۔

یاد رہے کہ رفسنجانی اور خامنہ ای کے درمیان بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ نے گزشتہ دسمبر میں یہ آئیڈیا پیش کیا تھا کہ خامنہ ای کی اچانک وفات کی صورت میں ولایت فقیہہ کے نظام کے بدلے ایک "رہ نما کونسل" تشکیل دی جائے۔

اس کے بعد فروری میں ہونے والے اتنخابات کے پس منظر میں یہ اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے جب مرشد اعلیٰ خامنہ ای نے رفسنجانی اور روحانی کو مجلس خبرگان رہبری کی رکنیت سے دور رکھنے کی کوشش کی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ 1989 میں خمینی کی وفات کے بعد خامنہ ای کو مرشد اعلیٰ کے منصب تک پہنچانے میں رفسنجانی نے ناخدا کا کردار ادا کیا تھا۔ تاہم دونوں شخصیات کے درمیان اختلافات نے اس وقت جنم لیا جب رفسنجانی کا اصلاح پسندوں کی جانب میلان بڑھا۔ انہوں نے 2013 میں روحانی کے صدارتی انتخابات میں جیتنے میں بھی کردار ادا کیا۔ اسی طرح حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بھی وہ اصلاح پسندوں کے ساتھ کھڑے تھے۔