.

ایران: خمینی انقلاب کو37 برس ۔۔۔ مگر عوام نماز سے کنارہ کش!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی دارالحکومت تہران میں ہر ہفتے خطیب جمعے کا خطبہ دینے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے سامنے چند ہزار نمازی ہوتے ہیں جن میں بہت سے سرکاری ذمہ داران کے علاوہ ریاست اور باسیج فورس کے اہل کار ہوتے ہیں، تاہم نماز میں شریک افراد کی یہ تعداد کسی طور بھی ایرانی دارالحکومت کی آبادی کے ساتھ نسبت نہیں رکھتی جہاں سکونت پذیر افراد کی تعداد 1 کروڑ سے زیادہ ہے۔

ایران میں نماز جمعہ کا اجتماع دعوتی اور رہ نمائی پہلو سے اہم ترین ذرائع میں سے ہے۔ جہاں مرشد اعلیٰ کے دفتر کی طرف سے جمعے کے امام کا انتخاب کیا جاتا ہے اور ہر شہر اور قصبے میں جمعے کا مرکزی خطیب "ولی ِ فقیہہ کا نائب" شمار کیا جاتا ہے۔

نماز جمعہ سے لوگوں کی کنارہ کشی، ملکی نظام سے عوام کی بیزاری کا واضح اشارہ ہے۔ یہ حکام کے نزدیک سمجھی جانے والی بعض مذہبی شخصیات میں تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ ان شخصیات میں "قدامت پرست علماء کی ایسوسی ایشن" کے ایک اہم رکن رضا اکرمی بھی شامل ہیں۔

ایرانی نیوز ایجنسیوں کے مطابق اکرمی کا کہنا ہے کہ "عام حالات میں تہران میں نماز جمعہ کے اجتماع میں لوگوں کی تھوڑی تعداد شریک ہوتی ہے جو کہ شہر کی 1 کروڑ کی آبادی سے تناسب نہیں رکھتی"۔

اکرمی نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ لوگوں پر جمعے کی نماز میں شرکت کے سلسلے میں زور دینے کے لیے مختلف طریقے اختیار کریں، اس لیے کہ یہ اجتماع ایرانی انقلاب کا "ایک اہم پلیٹ فارم" ہے۔ انہوں نے مذہبی شخصیات اور آئمہ جمعہ سے درخواست کی کہ وہ "لوگوں کو نماز جمعہ میں شرکت پر اکسانے کے لیے طریقہ کار وضع کریں اور اس اجتماع کو عزم کے ساتھ قائم کیا کریں"۔

اکرمی کے مطابق اس مقصد کے لیے "عوامی سطح پر مقبول" مذہبی شخصیات کا سہارا لیا جائے۔ ان شخصیات میں مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی شامل ہیں جنہیں 2009 کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد ملک گیر احتجاجات کے زمانے میں تہران میں نماز جمعہ کی امامت سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ان انتخابات میں حکام پر الزام تھا کہ انہوں نے مرشد اعلیٰ اور پاسداران انقلاب کے حمایت یافتہ محمود احمدی نژاد کے لیے جعل سازی کی تھی۔

اس وقت کے اپنے آخری خطبے میں رفسنجانی نے احتجاج سے متعلق اپنے سیاسی موقف کا کھل کر اظہار کیا جو کہ اپوزیشن کے موقف سے مطابقت رکھتا تھا۔ رفسنجانی نے اپوزیشن کی آواز سے آواز ملائی اور احمدی نژاد کے دوسری مرتبہ ایرانی صدارتی انتخابات جیت جانے پر تنقید کی۔ انہوں نے تمام سیاسی گرفتار شدگان کی رہائی اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ موقف کلی طور پر احمدی نژاد کے حامی ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے موقف کے مخالف تھا۔ تہران میں نماز جمعہ کے سلسلے میں رفسنجانی کے اس آخری خطبے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی تھی۔ ان میں تہران کے مقامی افراد کے علاوہ گرین موومنٹ سے وابستگی رکھنے والے احتجاج کرنے والے لوگوں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی۔

​محمد رضا اکرمی نے مجلس خبرگان رہبری کے حالیہ انتخابات میں رفسنجانی کی تہران میں سب سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی کی جانب اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ " رفسنجانی نہ صرف تہران کی اکثر آبادی میں مقبول ہیں بلکہ انہیں ایرانیوں کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے"۔

رفسنجانی نے خود بھی نماز جمعہ کے اجتماع کے حوالے سے برتی جانے والی غفلت سے خبردار کرتے ہوئے اس اجتماع کو "ملکی نظام اور عوام کے درمیان پل" قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ ایران میں جمعہ کی نماز کے آئمہ کا منصب ایک سرکاری عہدہ ہے۔

دوسری جانب بہت سی سروے رپورٹوں اور تحقیقوں کے مطابق ایرانی نوجوان مذہب سے کنارہ کش ہوتے جارہے ہیں۔ بعض حکومتی رہ نماؤں نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں ذکر کی جانے والی وجوہات مختلف ہیں۔ عموماً علی خامنہ ای اور ان کے پیروکار اس مظہر کو "دشمن" سے منسوب کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ایران میں اصلاح پسندوں اور اپوزیشن کی قیادت مذہب سے نوجوانوں کی بیزاری کی وجہ اس "ملکی نظام" کی پالیسیوں کو شمار کرتے ہیں جو خود کو ایک "مذہبی" نظام خیال کرتا ہے۔