.

سرکاری فوج نے 40 سال میں ایک بھی قتل نہیں کیا: شامی مفتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام میں صدر #بشار_الاسد کے درباری مفتی احمد بدرالدین حسون کا ایک نیا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے حقائق سے ایک بار پھر سر منہ انحراف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شام کی سرکاری فوج نے گذشہ چالیس برسوں میں ایک بھی شخص کو ذبح نہیں کیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر لوگوں کی گردنیں اڑانیں کا الزام دھرتے ہوئے اسدی فوج کے جرائم کی بھرپور پردہ پوشی کی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام کے سرکاری مفتی جنہیں اپوزیشن کی جانب سے ’مفتی اسد‘ کا لقب دیا گیا ہے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ لوگوں کو ذبح کرنے کا چلن باغیوں نے اپنایا ہے۔ شامی فوج نے چالیس سال میں ایک بھی شخص کی گردن نہیں کاٹی۔

شام کے درباری مولوی کا یہ بیان انتہائی مضحکہ خیز اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ انہوں نے شامی فوج کی اپنے شہریوں پر بیرل بموں کی بارش، بمباری طیاروں کے ذریعے پوری پوری بستیوں کو اجاڑ دینے اور لاکھوں بے گناہ بچوں اور خواتین کو خاک وخون میں تڑپانے کے واقعات کا دفاع کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ شامی فوج کے ہاتھوں پر کسی بے گناہ کا خون نہیں ہے۔

مفتی حسون نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے #یورپ کو دھماکوں کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی یورپی ملکوں کو دھمکی نہیں دی، البتہ انہیں نصیحت ضرور کی ہے۔

خیال رہے کہ مفتی حسون ماضی میں ایک متنازع بیان میں یورپی ملکوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ اپنے ایک سابقہ بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر شام میں ایک راکٹ گرتا ہے تو شام سے لبنان، وہاں سے یورپ اور فلسطین تک فدائی حملہ آور چل پڑیں گے۔ ان کا یہ دھمکی آمیز ویڈیو بیان آج بھی ویڈیو شیئرنگ ویب سائیٹ ’یوٹیوب‘ پر موجود ہے۔

حال ہی میں ایک اور بیان میں مفتی حسون نے ایک نیا شوشہ چھوڑا، کہنے لگے شام پر اس لیے جنگ مسلط کی گئی کیونکہ شامی قوم سائنس، صنعت اور زراعت میں دنیا میں تیزی کے ساتھ ترقی کررہی تھی۔

یہاں تک کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئن سٹائن نے شام کی عرب اشتراکی بعث پارٹی کے ایک علمی مرکز میں فزکس کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کے اس بیان پر شامی اپوزیشن کی جانب سے سخت طنز مزاح بھی کیا گیا۔

شام کے درباری مفتی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے بعض کارکنوں نے استفسار کیا کہ اسد رجیم جو یہ تک نہیں جانتی کہ اس کی قوم کیا چاہتی ہے وہ بھلا سائنس اور صنعت میں کیسے ترقی کرسکتی ہے۔

سرکاری مفتی نے پچھلے برس صدر بشارالاسد کے آبائی شہر اللاذقیہ کا دورہ کیا اور وہاں مذہبی شخصیات سے ملاقات کے دوران انہوں نے فکر اسلامی کی تجدید کی ایک نئی تجویز پیش کی۔ تاہم وہ واضح نہیں کرسکے کہ آیا فکر اسلامی کی تجدید سے ان کی کیا مراد ہے۔ انہوں نے یہ تجویز ایک ایسے وقت میں پیش کی تھی جب یہ خبریں زبان زدعام تھیں کہ صدر بشارالاسد قرآن کریم کی آیات میں تحریف کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حتیٰ کہ صدر اسد کے پیروکاروں نے بشار الاسد کو سجدے کرنا شروع کردیے ہیں۔