.

ایران: احمدی نژاد کی سیاست میں واپسی ۔۔۔ عوام سراپا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے شمالی صوبے مازندران میں عوام نے سابق صدر محمود احمدی نژاد کی سیاسی میدان میں واپسی کے خلاف احتجاجی مہم شروع کر دی ہے۔ نژاد کو جمعرات کے روز صوبے کے وسطی شہر آمل کا دورہ کرنا ہے جہاں وہ شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے کئی کمانڈروں اور ارکان کی ہلاکت کی یاد میں ہونے والی تقریب سے خطاب کریں گے۔

اس احتجاجی مہم کو "ہم احمدی نژاد کے دور کے مشکل سال نہیں بھولیں گے" کا نام دیا گیا ہے۔

ادھر احمدی نژاد کے قریب سمجھی جانے والی ایک ویب سائٹ "دولت بہار" نے اس عوامی مہم پر دستخط کرنے والوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں "اخلاقی فساد پھیلانے والا" قرار دیا ہے۔

سابق ایرانی صدر محمد احمدی نژاد کے نزدیک سمجھی جانے والی ویب سائٹوں نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ نژاد 2017ء میں ہونے والے آئندہ صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر حسن روحانی کے مقابل حصہ لیں گے۔

2009ء میں ملک کے سخت گیر ٹولے اور پاسدارن انقلاب کی سپورٹ سے احمدی نژاد کی دوسری مرتبہ کامیابی پر ایران میں وسیع پیمانے پر احتجاجی سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس کو "سبز انتفاضہ" کا نام دیا گیا۔ احتجاج کرنے والوں کا موقف تھا کہ نژاد نے جعل سازی کے ذریعے اپنے حریفوں مہدی کروبی اور میرحسین موسوی کے خلاف ووٹ حاصل کیے۔ احتجاجی مہم کی قیادت بھی ان ہی دونوں شخصیات نے کی۔ کروبی اور موسوی 2011 سے نظر بند ہیں۔

احمدی نژاد کے نزدیکی ذرائع نے بتایا ہے کہ سابق صدر نے آئندہ صدارتی انتخابات میں قسمت آزمانے کا فیصلہ، 26 فروری کو ہونے والے مجلس خبرگان رہبری اور پارلیمنٹ کے حالیہ انتخابات میں سخت گیر ٹولے کی شکست کے بعد کیا ہے۔ ان انتخابات میں سابق صدر محمد خاتمی کے قریب سمجھے جانے والے اصلاح پسندوں اور ان کے معتدل حلیفوں نے کامیابی حاصل کی۔