.

شام میں امریکا کا فضائی حملہ، القاعدہ کے متعدد جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شام میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں پر ایک اور فضائی حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان میتھیو ایلن نے کہا ہے کہ ''میں تصدیق کرسکتا ہوں کہ امریکا نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا ہے جس سے القاعدہ کے متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔اس حملے کے نتائج کا اندازہ کیا جارہا ہے''۔

پینٹاگان کے ایک اور عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یہ حملہ شام کے شمال مغربی علاقے میں کیا گیا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ حملہ منگل کی شب کیا گیا تھا اور اس سے ایک روز پہلے امریکی فوج نے شام کے شمال مغربی علاقے میں النصرۃ محاذ کے ایک اجلاس پر فضائی بمباری کی تھی۔

القاعدہ کی شامی شاخ نے بدھ کو اس حملے میں اپنے ترجمان ابو فراس السوری کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔واضح رہے کہ قبل ازیں امریکا نے شام میں النصرہ محاذ پر کوئی زیادہ فضائی حملے نہیں کیے ہیں اور اس کے طیارے مجموعی طور پر داعش ہی کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

ان فضائی حملوں کی اطلاع ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں ،جب جنیوا میں 11 اپریل کو امن مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے لیکن ان کی کامیابی کے بارے میں ابھی سے شکوک وشبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان ریاض نعسان آغا کا کہنا ہے کہ ''شام امن مذاکرات اگر صدر بشارالاسد کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر یہ ناکامی سے ہی دوچار ہوں گے''۔

انھوں نے کہا کہ آیندہ مذاکرات میں شامی صدر کے مستقبل پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔اگر مذاکرات میں بشارالاسد کی قسمت کا فیصلہ نہیں کیا جاتا ہے تو یہ وقت کا ضیاع ہوگا اور ناکامی ان کا مقدر ہوگی''۔ تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ آیندہ مذاکرات میں شام میں انتقال اقتدار کے عمل پر توجہ مرکوز کی جائے گی تا کہ ملک میں گذشتہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ہو اور قیام امن کی راہ ہموار ہوسکے۔