.

شام میں ہلاک پاکستانیوں اور افغانیوں کی ایران میں تدفین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ قم اور اصفہان کے شہروں میں 8 پاکستانی اور افغانیوں کی لاشوں کو دفنا دیا گیا ہے۔ ان افراد کو ایرانی پاسداران انقلاب نے تہران کے حلیف بشار الاسد کے دفاع کے لیے شام میں لڑنے کے واسطے بھرتی کیا تھا۔ ایرانی میڈیا نے پانچ سال سے جاری جنگ کی بھٹی میں افغان بچوں کو بھی دھکیلے جانے کا انکشاف کیا ہے۔

فارسی زبان کی ایک ویب سائٹ "عراق اور شام میں جنگ کی رپورٹس" نے فیس بک پر بتایا ہے کہ شام میں مارے جانے والے پاکستانیوں کا تعلق "زینبیون بریگیڈ" اور افغانیوں کا تعلق "فاطمیون بریگیڈ" سے ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرونی ونگ فیلق القدس نے جس کی قیادت جنرل قاسم سلیمانی کے ہاتھ میں ہے، ان دونوں بریگیڈز کو بنا کر اسلحے سے لیس کیا۔ یہ بریگیڈز پاکستان اور افغانستان کے علاوہ بالخصوص ایران میں مقیم ان ملکوں کے شیعہ باشندوں کو بطور معاون سپاہی بھرتی کرتے ہیں، وہ بھی ایسی جنگوں میں جن کا ان افراد کے ممالک کے مفاد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

ویب سائٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارے جانے والے افغانیوں کے نام محمد باقر مہردادی، روح الله حسینی، مہدی جعفری، بشير ناطقی ہیں جب کہ پاکستانیوں کے نام یہ ہیں گلفام حسین، امجد علی، سرتاج حسين اور مرتضى حسين حيدری۔ ان تمام افراد کا تعلق ایران میں مقیم غیرملکی برادریوں سے ہے۔

ایک دوسری خبر میں اسی ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران افغانی بچوں کو بھرتی کرکے شام میں جنگ کے لیے بھیج رہا ہے۔ ویب سائٹ نے 17 برس کے دو لڑکوں محمد حسن اکبری اور احمد ترابی کی قبروں کی تصویر بھی جاری کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ دونوں گزشتہ ماہ شام کے صوبے الدرعا کے علاقے بصری الحریر میں مارے گئے۔