.

16 برس سے کم میں شادی ۔۔ دو تہائی سعودیوں کا انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک سروے رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 68 فی صد افراد نے 16 سال سے کم عمر لڑکوں کی شادی کے آئیڈیا کو مسترد کر دیا ہے جب کہ 32 فی صد کا کہنا ہے کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ سروے میں شریک افراد نے "العربیہ" نیوز چینل کے پروگرام "تفاعلکم" میں ٹوئیٹس کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

ادھر مملکت کے شہر تبوک میں اسکول میں زیرتعلیم ایک سعودی لڑکے کی شادی منعقد ہوئی جس کی عمر 16 برس سے زیادہ نہیں جب کہ اس کی بیوی (چچا کی بیٹی) کی عمر 15 برس ہے۔ دولہا علی القیسی کے والد کا کہنا ہے کہ "یہ میری اور میرے بیٹے دونوں کی خواہش تھی۔ اگر میں اپنے بیٹے کو اس ذمہ داری کے قابل نہ سمجھتا تو کبھی یہ قدم نہیں اٹھاتا۔ مجھے اس پر بہت اعتماد ہے اور میری غیرموجودگی میں وہ ہی گھر کے انتظامی امور چلاتا ہے۔ میری اپنی شادی 17 برس میں ہو گئی تھی۔ اس کے بعد میں نے تعلیم مکمل کی اور ملازمت کی۔ میرے اس عمل میں شریعت اور فطرت کے خلاف کوئی چیز نہیں۔ بالخصوص جب کہ میرے بیٹے کی بیوی اس کی چچا زاد ہے۔ اس کی عمر 15 برس ہے اور وہ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے"۔

نوجوان جوڑا دولہا کے والدین کے ساتھ ان کے وسیع و عریض گھر کے ایک علاحدہ حصے میں رہتا ہے۔ دولہا القیسی کا کہنا ہے کہ وہ اس اقدام پر مکمل طور پر مطمئن ہے اور امید ہے کہ اس طرح اس کے اندر احساس ذمہ داری اور خود اعتمادی میں اضافہ ہو گا۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ بعض لوگوں نے اس عمل کی حمایت کرتے ہوئے اسے دلیری پر مبنی قرار دیا جب کہ مخالفین نے اس کو نہایت خطرناک فعل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دولہا اور دلہن عمر کی اس حد تک نہیں پہنچے ہیں جو ان کی مشترکہ زندگی کی مضبوط بنیاد قائم کر سکے۔

سعودی وزارت انصاف کی جانب سے مملکت میں لڑکیوں کی شادی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مناسب طریقہ کار کا تعین کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں 16 برس سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کے لیے متعلقہ عدالت سے تحریری منظوری لینا لازمی ہے۔