.

غربِ اردن میں اسرائیلی آبادکاری کے خلاف فلسطینی قرارداد

فلسطینی، صدر محمود عباس کی نیویارک موجودگی میں قرارداد کی منظوری کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن نے اسرائیل کی یہودی آبادکاری کے خلاف ایک مجوزہ قرارداد کا مسودہ عرب ممالک میں تقسیم کیا ہے۔یہ قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جائَے گی۔اس میں مقبوضہ فلسطینیوں علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے یہودی آبادکاروں کو بسانے کی مذمت کی گئی ہے اور اس کو امن کی راہ میں ایک رکاوٹ قراردیا گیا ہے۔

فلسطینی مشن نے اس قرارداد کے متن کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم کرنے سے انکار کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں۔اس لیے اس جائزے کی بنیاد پر کونسل کے رکن ممالک کی ذمے داری ہے کہ وہ یہودی بستیوں کے بارے میں قرارداد منظور کریں۔

فلسطینیوں نے فروری 2011ء میں سلامتی کونسل میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف قرارداد کے حق میں چودہ ووٹوں کا حوالہ دیا ہے لیکن اس کو امریکا نے ویٹو کردیا تھا۔اس قرارداد میں اسرائیلی یہودی بستیوں کو غیر قانونی قراردیا گیا تھا اور ان کی تعمیرات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اسرائیلی روزنامے ہارٹز نے سب سے پہلے اس قرارداد کے بارے میں اطلاع دی ہے اور لکھا ہے کہ فلسطینی اس پر صدر محمود عباس کی نیویارک میں موجودگی کے وقت سلامتی کونسل میں رائے شماری چاہتے ہیں۔فلسطینی صدر 22 اپریل کو ایک اعلیٰ سطح کی تقریب میں شریک ہوں گے۔اس میں ایک سو تیس سے زیادہ ممالک تاریخی موسمیاتی سمجھوتے پر دستخط کریں گے۔

اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظمم بنیامین نیتن یاہو نے اس قرارداد کی فوری طور پر مذمت کردی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس ایسا قدم اٹھا رہے ہیں جس سے مذاکرات مزید دور ہوتے چلے جائیں گے۔نیتن یاہو نے ان پر براہ راست مذاکرات سے گریز کا الزام عاید کیا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت القدس ،غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔اس بعد میں بیت المقدس میں اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا مگر اس اقدام کو بین الاقوامی برادری تسلیم نہیں کرتی ہے۔اس نے برسوں سے مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے بستیوں کی تعمیر شروع کررکھی ہے۔اب تک کم وبیش چھے لاکھ اسرائیلیوں کو غرب اردن میں مختلف بستیوں میں بسایا جاچکا ہے لیکن عالمی برادری ان بستیوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔

اسرائیل تورات اور زبور کے حوالوں سے بیت المقدس کو یہودیوں کے لیے خاص شہر قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہودیوں کو اس شہر میں کہیں بھی بسیرا کرنے کی اجازت ہے۔وہ یروشلم کو اپنا ابدی دارالحکومت بھی قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی اس مقدس شہر کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

فلسطینی غرب اردن میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔انھوں نے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی مہم شروع کررکھی ہے۔ان کا عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے ایک ڈیڈ لائن مقرر کرے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم یہودی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی عاید کردے۔