.

عراق : داعش کی فلوجہ شہر میں امدادی سامان کے داخلے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شہر فلوجہ میں باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مقامی آبادی نے محصور شہریوں کے ایک گروپ کو انسانی حقوق کی ان تنظیموں سے امدادی اور طبی سامان وصول کرنے کا اختیار دے دیا ہے جو شہر کے اندر محصور لوگوں تک امداد پہنچانے کی خواہش مند ہیں۔ فلوجہ میں محصور افراد میں شامل ایک مذہبی شخصیت مصطفی الطربولی نے العربیہ نیوز چینل کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے میں بتایا کہ "شدت پسند اس بات پر آمادہ ہوگئے ہیں کہ شہر پہنچنے والے کسی بھی امدادی قافلے کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا"۔ انہوں نے واضح کیا کہ "شہر کا مغربی حصہ امدادی اور طبی سامان وصول کرنے کے لیے محفوظ گزرگاہ ہوگی"۔

3 لاکھ شہری فلوجہ میں محصور

الطربولی نے اس امر کی تصدیق کی کہ اس وقت فلوجہ میں تقریبا 3 لاکھ شہری ہیں، کچھ عرصہ قبل امدادی سامان کی منصفانہ تقسیم کے لیے ان کی گنتی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب گیند عراقی حکومت کے کورٹ میں کہ وہ شدت پسند تنظیم کی جانب سے امدادی سامان کے داخلے کی اجازت دیے جانے کے بعد امداد کی کھیپ شہر تک پہنچائے۔ الطربولی کے مطابق داعش نے اس اجازت کو کسی بھی شہری کے فلوجہ سے باہر نہ جانے کے ساتھ مشروط کیا ہے۔

یاد رہے کہ شدت پسندوں کے فلوجہ میں داخل ہونے اور اس مکمل قبضہ کرلینے کے بعد دو سال سے زیادہ عرصے سے عراقی حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کا غذائی مواد یا خوراک شہر میں داخل نہیں ہوئی۔ شہر میں بجلی مکمل طور پر منقطع ہے اور ضروریات زندگی انتہائی کمیاب ہیں۔