.

​لیبیا : داعش کے حملوں کا اندیشہ.. 3 آئل فیلڈز خالی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں نیشنل آئل کارپوریشن نے تصدیق کی ہے کہ داعش تنظیم کی جانب سے حملوں کے ارادے کی خبر ملنے کے بعد سرت شہر کے جنوب مغرب میں واقع تین آئل فیلڈز کو خالی کر دیا گیا ہے۔

کارپوریشن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ البیضاء، الواحہ اور تیبستی کی فیلڈز سے تمام ملازمین اور اہل کاروں کو نکال لیا گیا ہے جب کہ تیل کی تنصیبات کے محافظین کی فورس تعینات کردی گئی ہے تاکہ کسی بھی وقت ممکنہ مقابلے سے نمٹا جاسکے۔

بیان کے مطابق یہ اقدام باوثوق ذرائع سے ملنے والی ان خبروں کے بعد کیے گئے ہیں جن میں بتایا گیا تھا کہ داعش تنظیم مذکورہ اور ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کا ارادہ رکھتی ہے۔

دوسری جانب لیبیا کے اخبار بوابہ الوسط نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ داعش تنظیم گزشتہ شام سے سرت شہر کے قریب واقع المبروک آئل فیلڈ میں اپنی فورس جمع کررہی ہے تاکہ وہاں سے اطراف کی آئل فیلڈز پر حملہ کیا جاسکے۔

گزشتہ دنوں کے دوران داعش نے سرت کے جنوب میں ھون قصبے کے قریب کے علاقے پر شہر کے مسلح افراد کے گروپوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ جھڑپوں میں دو مسلح افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ ہفتے کے روز البیضاء فیلڈ پر داعش کے حملے میں تیل کی تنصیبات کی محافظ فورس کے 5 اہل کار ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سے قبل داعش تنظیم سرت شہر کے مشرق میں السدرہ اور راس کی آئل فیلڈز پر متعدد حملے کرچکی ہے جس کے نتیجے میں تیل کے کئی ٹینک جل گئے تھے۔ بعد ازاں تنظیم کے جنگجوؤں نے وہاں سے نکل کر "بن جواد" گاؤں میں پناہ لے لی تھی۔

لیبیا میں نیشنل آئل کارپوریشن ابھی تک دو انتظامی گروپوں میں تقسیم ہے۔ پہلا گروپ طرابلس کے احکامات کی پیروی کرتا ہے اور اس نے صدارتی کونسل کے وفاقی حکومت کے حل پر پہنچنے کا خیرمقدم بھی کیا جب کہ دوسرے گروپ نے البیضاء میں اپنا صدر دفتر قائم کر رکھا ہے اور وہ عبداللہ الثنی کی حکومت کے پیچھے چل رہا ہے۔ اس گروپ نے کچھ عرصہ قبل ملک کے مشرق میں الثنی کی حکومت کے احکامات کی تعمیل کا اعلان کیا تھا۔