.

شام: جھڑپوں میں 35 ہلاک ،داعش کا دو دیہات پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر حلب اور اس کے نواحی علاقوں میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے اور باغی گروپوں کے درمیان گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران جھڑپوں میں پینتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ داعش نے دو دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی مرصد (رصدگاہ) برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ صوبہ حلب میں ہفتے اور اتوار کی نصف شب سے اسدی فوج اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں اور ان کے اتحادی باغی گروپوں کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں۔ان میں شامی فوج کے اتحادی سولہ جنگجو اور باغی گروپوں کے انیس جنگجو مارے گئے ہیں۔

رصدگاہ کے مطابق صوبہ حلب میں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجو شامی فوج کے شانہ بشانہ النصرۃ محاذ اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔النصرۃ محاذ کے مہلوکین میں شامی اور غیر شامی جنگجو شامل ہیں اور ان میں سے بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔

شامی مرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ حلب کے نواحی علاقوں میں جنگ بندی ختم ہونے کو ہے۔النصرۃ ،باغی گروپ احرارالشام اور ان کے اتحادیوں نے حلب کے نواحی علاقوں میں شامی فوج کے قبضے میں آنے والے علاقوں پر دوبارہ کنٹرول کے لیے بھرپور حملہ کیا ہے۔

شام میں 27 فروری سے امریکا اور روس کی ثالثی کے نتیجے میں جزوی جنگ بندی جاری ہے۔تاہم داعش اور النصرۃ محاذ پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔اس وقت صوبہ حلب میں مختلف محاذوں پر النصرۃ محاذ کے جنگجو دوسرے باغی گروپوں کے ساتھ مل کر شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں کے خلاف لڑرہے ہیں۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں تشدد رکا نہیں ہے۔البتہ روس اور شامی فوج کے فضائی حملے اور بیرل بموں کے حملے رکنے کے بعد سے عام شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔روسی فضائیہ اور شامی فوج اب حلب شہر پر کنٹرول کے لیے باغیوں کے خلاف ایک بھرپور حملے کی تیاری کررہے ہیں۔

درایں اثناء شامی کارکنان نے اطلاع دی ہے کہ داعش نے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں ایک بڑا حملہ کیا ہے اور انھوں نے باغی گروپوں سے سرحدی شہر اعزاز کے نزدیک واقع دو دیہات شیخ ریح اور آل بعل چھین لیے ہیں۔ان دونوں دیہات پر مغرب کے حمایت یافتہ باغیوں نے دو روز قبل ہی قبضہ کیا تھا۔

اعزاز میڈیا مرکز سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے بتایا ہے کہ انتہاپسند جنگجوؤں نے ماریا اور دوسرے دیہات میں سات بم دھماکے کیے ہیں اور اس علاقے میں گذشتہ ایک سال کے دوران ان کا یہ شدید ترین حملہ ہے۔داعش سے وابستہ اعماق نیوزایجنسی نے مذکورہ دو دیہات پر قبضے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ ایک اور گاؤں کفرشوشا میں بھی ایک خودکش کارروائی میں باغی جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔