.

ایرانیوں کو 12 ملکوں میں دہشت گردی کے الزام کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اطلاعات اور ثقافت کے سعودی وزیر ڈاکٹر عادل الطریفی کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے حالیہ بیان درحقیقت مملکت سعودی عرب، اس کے نظریات اور رواجوں سے نفرت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ دنیا کے 12 ممالک میں ایرانی ذمہ داران پر دہشت گردی، منی لانڈرنگ اور دیگر جرائم میٕں ملوث ہونے کے سلسلے میں فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی مرشد اعلیٰ کے مشیر علی اکبر ولایتی نے ایرانی ٹیلی وژن کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ "میں سعودیوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ سعودی ریاست کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے حکمت سے کام لیں اور رواداری پر مبنی اسلامی شریعت کے اصولوں کی طرف واپس لوٹیں"۔

عادل الطریفی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ "عالمی برادری اس بات کا اچھی طرح سے سمجھتی ہے کہ خلیجی اور عرب ممالک کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کے پیچھے ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب ہیں۔ وہ خطے میں دہشت گرد حملوں کے واقعات کے لیے دہشت گرد گروپ تیار کرنے کے ذمہ دار ہیں"۔

ڈاکٹر الطریفی نے زور دے کر کہا کہ سعودی قیادت ایرانی عوام اور ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب کے درمیان فرق کرتی ہے۔

سعودی وزیر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے میں آگ لگائے جانے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کر کے مملکت نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ایرانی حکومت ہر جگہ سعودیوں کو حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے جس پر سعودی عرب نے ایران کی حرکات اور حزب اللہ جیسے نمائندوں کی مذمت کے لیے فعال اقدامات کیے ہیں"۔

سعودی وزیر ثقافت اور ذرائع ابلاغ نے کہا کہ مملکت نے اپنی پوری تاریخ میں کسی قوم یا عوام سے عداوت نہیں رکھی بلکہ وہ عرب دنیا کی خودمختاری سے لے کر آج تک دنیا بھر کے عوام اور شہریوں کی مدد میں پیش پیش رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ " ایران تین دہائیوں کے گزر جانے کے بعد بھی اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکا کہ آیا اس کی حیثیت (ریاست) کی ہے یا (انقلاب) کی، ساری دنیا اس بے فائدہ بحث کی وجہ سے مشکل سے دوچار ہے"۔

جہاں تک ایرانی عوام کا تعلق ہے تو وہ منفرد تہذیب کی حامل قوم ہے۔ خطے اور دنیا بھر میں امن و استحکام کو تباہ کرنے کے لیے ایرانی پاسداران انقلاب کے دہشت گردانہ کردار کے آغاز سے قبل ایرانی عوام کے مملکت کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔