.

شامی حکومت جنگ بندی سے منحرف ہو رہی ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام جنگ بندی اور متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان پہنچانے سے متعلق اپنے وعدوں کو پورا نہیں کررہا ہے جس سے امن عمل مزید مشکلات سے دوچار ہوگیا ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ میں متعیّن امریکی سفیر سمنتھا پاور نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ سمنتھا پاور نے روس پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے اتحادی شام کو امن کی راہ پر واپس لانے کے لیے دباؤ ڈالے۔

ان کے بہ قول اس وقت ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی مستورا کی میزبانی میں سیاسی مذاکرات بلانے کے لیے ماحول سازگار نہیں ہے۔

اسٹافن ڈی مستورا نے بند کمرے کے اس اجلاس میں تہران سے ویڈیو لنک کے ذریعے سلامتی کونسل کو جنیوا میں شروع ہونے والے شام امن مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا۔ان مذاکرات کا مقصد شام میں جاری پانچ سالہ جنگ کا خاتمہ ہے۔

ڈی مستورا کا کہنا تھا کہ انھیں شمالی صوبے حلب ،وسطی صوبے حماہ اور دمشق کے بعض حصوں میں لڑائی میں شدت پر تشویش لاحق ہے

روسی سفیر ویٹالے چرکین نے کہا کہ عالمی ایلچی نے حلب میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کے شامی فورسز پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔تاہم امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ انھیں شام کی جانب سے روس کی حمایت سے حلب میں جوابی حملے پر تشویش لاحق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''یہ حملہ حلب کے لوگوں کے لیے تباہ کن ہوگا۔اس سے امن عمل بھی پیچیدگی کا شکار ہوجائے گا کیونکہ جنگی کارروائیاں روکنے ،انسانی امداد کی متاثرین تک رسائی اور سیاسی مذاکرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

جنیوا میں بدھ سے شام کے متحارب فریقوں کے درمیان امن مذاکرات کا آغاز ہورہا ہے۔شامی صدر بشارالاسد اور حزب اختلاف کی فورسز کے درمیان بالواسطہ بات چیت کا یہ دوسرا دور ہے۔شام میں 27 فروری سے امریکا اور روس کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے تحت جزوی جنگ بندی جاری ہے اور اس کی وجہ سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اس سے شام میں جاری تنازعے کے حل کی راہ ہموار ہوگی۔