.

شام میں مذاکرات کا ہدف انتقال اقتدار کی راہ ہموار کرنا ہے: میستورا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام کے لیے #اقوام_متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن #دی_میستورا نے کل بدھ سے بات چیت کا دوبارہ آغاز کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ شام میں عارضی جنگ بندی کو مزید توسیع دینے کے ساتھ ساتھ متحارب فریقین میں بات چیت کا عمل شروع کرانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق دی میستورا کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ان کے روس، شام ، ایران اور اردن کے دورے کے دوران شام میں سیاسی انتقال اقتدار کی غیرمعمولی حمایت دیکھی گئی ہے۔ ان کی مذاکراتی مساعی کا اصل مقصد بھی شام میں اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو سپرد کرانے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

کل بدھ کو انہوں نے جنیوا میں شامی اپوزیشن کی سپریم کونسل کے نمائندوں سے بات چیت سے کیا۔

ادھر شامی اپوزیشن کے چیئرمین نے الزام عاید کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود شامی فوج بڑے پیمانے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کررہی ہے۔ مارچ میں جنگ بندی کی 2000 خلاف ورزیاں کی گئیں اور صرف ایک ماہ میں شہریوں پر 420 بیرل بم گرائے گئے۔ توقع ہے کہ آج جمعرات کو شامی حکومت کا ایک وفد بھی جنیوا پہنچے گا جہاں اس کی ملاقات اقوام متحدہ کے امن مندوب کے ساتھ ہوگی۔

دی میستورا کا پہلا مذاکراتی دور 24 مارچ کو مکمل ہوا تھا۔ مختلف ملکوں کے دورے کے بعد جنیوا پہنچنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بات چیت کا مقصد شام میں انتقال اقتدار کی راہ ہموار کرنا ہے۔