.

عراق: اسپیکر کا پارلیمنٹ تحلیل، نئے انتخابات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#عراق کی پارلیمنٹ میں حال ہی میں پیدا ہونے والے تنازعات کے بعد پارلیمنٹ کے اسپیکر #سلیم_الجبوری نے پارلیمان کو تحلیل کرتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسپیکر کے ترجمان عما الخفاجی نے #بغداد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں بتایا کہ اسپیکر سلیم الجبوری نے تمام ارکان پارلیمان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایوان کو تحلیل کرنے کے لیے پیش کردہ پیٹیشن پر دستخط کریں تاکہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرکے قبل ازوقت انتخابات کی راہ ہموار کی جاسکے۔

پارلیمنٹ کا اجلاس آج جمعرات کو دوبارہ ہوگا اور آج کے اجلاس میں صدر #فواد_معصوم بھی شرکت کریں گے۔ دوسری جانب پارلیمنٹ کے سیکڑوں ارکان نے آج بھی ایوان کے اندر احتجاج اور دھرنا دینے کی کا اعلان کررکھا ہے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ میں نئی کابینہ کی تشکیل پر پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد اسپیکر نے صدر مملکت سے درخواست کی تھی کہ وہ وزیراعظم #حیدر_العبادی کو برطرف کرنے کے حوالے سے سامنے آنے والے مطالبے پر بحث میں حصہ لینے کے لیے ایوان میں آئیں۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران کردستان الائنس اور سابق وزیراعظم نوری المالکی کی جماعت دولۃ القانون کے ارکان کے مابین نئی کابینہ کی تشکیل کے پر رائے شماری کی معاملے پر ہاتھا پائی ہوئی تھی۔ جس کے بعد رائے شماری آج جمعرات تک ملتوی کردی گئی تھی۔

ہاتھا پائی اور گالم گلوچ

عراق کے مختلف ٹی وی چینلوں نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ہونے والی بد نظمی، ہاتھا پائی اور گالم گلوچ کے مناظر براہ راست نشر کیے تھے جس پر عوامی حلقوں کی جانب سے بھی عراقی سیاست دانوں پر سخت لعن طعن کی گئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کردستان الائنس کے ایک سرکردہ رکن نے الزام عاید کیا کہ ایوان میں بد نظمی اس وقت پیدا ہوئی جب خاتون رکن پارلیمنٹ عالیہ نصیف کردوں کو برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ عالیہ نصیف اور ایک کرد الائنس کی رکن اسمبلی رنکین عبداللہ کے درمیان ہونے والی بدکلامی ہاتھا پائی تک جا پہنچی جب ایک رکن پارلیمنٹ نے کرد خاتون رکن پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے اسے گرانے کی کوشش کی تھی۔ اس پر کرد پارلیمانی بلاک کے تمام ارکان نے آج دوبارہ معاملہ اسپیکر کے سامنے اٹھانے اور احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب خاتون رکن پارلیمنٹ عالیہ نصیف کا نے جنگ کے دوران متاثر ہونے والے کردوں کی توہین کا الزام مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے تو حیرت اس وقت ہوئی جب کرد رکن پارلیمنٹ رنکین عبداللہ نے انتہائی جذباتی انداز میں اسے گالم گلوچ شروع کردی تھی۔ بعد ازاں ٹی وی چینلوں کے نامہ نگاروں کو بھی یہ کہا گیا کہ عالیہ نصیف کردوں کی دشمن ہے۔

بعد ازاں اسپیکر کے ترجمان عماد الخفاجی نے بتایا کہ آج جمعرات کے روز ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں صدر فواد معصوم بھی شرکت کریں گے۔ وہ پارلیمنٹ میں کی تحلیل سےمتعلق سامنے آنے والے مطالبے پر بھی غور کریں گے۔

پارلیمنٹ میں شامل نیشنل الائنس کے ارکان کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ تحلیل اور حکومت اور صدر مملکت تینوں کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جب تک ان کا یہ مطالبہ پورا نہیں ہوگا وہ ایوان سے باہر نہیں جائیں گے۔

خیال رہے کہ 160 رکنی عراقی پارلیمنٹ میں اب تک 100 ارکان نے پارلیمنٹ کی تحلیل اور صدر اور وزیراعظم کے مستعفی ہونے کے مطالبے کی پٹیشن پر دستخط کردیے ہیں۔

حکومت کی تبدیلی کی خواہاں سیاسی جماعتوں نے عراق کے تحریر اسکوائر میں دوبارہ احتجاجی دھرنوں کی تیاری شروع کردی ہے۔

کل بدھ کے روز پارلیمنٹ کا اجلاس احتجاجی ارکان پارلیمان کی جانب سے وزیراعظم حیدر العبادی کی تجویز کردہ نئی کابینہ کو مسترد کیے جانے کے بعد ملتوی کردیا گیا تھا۔ وزیراعظم العبادی نے اپنی کابینہ میں کرپشن کی روک تھام کے لیے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئے نام تجویز پیش کیے تھے۔

ادھر اسپیکر کے دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر مستعفی نہیں ہو رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض ارکان نے اسپیکر کے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے مگر سلیم الجبوری نے استعفیٰ نہ دینے کاعزم کیا ہے۔

نئی کابینہ کی تشکیل کے معاملے پر کئی ارکان پارلیمنٹ نے جہاں نئے ناموں کی مخالفت کی ہے وہیں کئی ارکان فرقہ واریت سے پاک حکومت کی تشکیل کے لیے نئی کابینہ کی حمایت بھی کررہے ہیں۔ رواں ہفتے کے آغاز میں وزیراعظم نے اپنی کابینہ میں نئی نام شامل کرتے ہوئے انہیں پارلیمنٹ میں زیربحث لانے کا فیصلہ کیا تھا مگرایوان میں اٹھنے والے اختلافات نے معاملہ پارلیمنٹ کی تحلیل اور قبل ازوقت انتخابات کے مطالبے تک پہنچا دیا ہے۔