.

سعودی عرب.. داعش کے 1.5 لاکھ پلیٹ فارموں کے خلاف برسرجنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگر آپ "گوگل"، "یاہو" یا کسی بھی سرچ انجن میں یہ تحریر کریں کہ دستی بم کس طرح تیار ہوتا ہے؟ تو آپ کی اسکرین پر ہزاروں ویب سائٹیں نمودار ہوجائیں گی جہاں دستی بم تیار کرنے کے انتہائی آسان طریقے بتائے گئے ہیں جن میں استعمال کی جانے والی اشیاء تقریبا ہر گھر میں مل سکتی ہیں۔ اگر آپ اس موضوع پر عربی کے فورموں کو بھی شامل کرلیں جو اس صنعت کی تشہیر کررہی ہیں اور انٹرنیٹ پر 24 گھنٹے کام کررہی ہیں توپھر اس ہولناک آفت کا حجم واضح ہوجائے گا۔

رواں ماہ کے آغاز میں سعودی عرب کی حائل یونی ورسٹی میں انٹلیکچوئل سیکورٹی کمیٹی کے نائب سربراہ ڈاکٹر عثمان العامر نے انکشاف کیا تھا کہ دہشت گردی پھیلانے والی 76 فی صد ویب سائٹس امریکا کے اندر سے چل رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گرد تنظیم "داعش" سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ٹوئیٹر" پر 2.5 لاکھ سے زیادہ ٹوئیٹس کرچکی ہے۔

ادھر انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں سرگرم "السکینہ مہم" کے صدر ڈاکٹر عبدالمنعم المشوح نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر دہشت گرد تنظیموں کے انسداد سے متعلق خصوصی اعداد و شمار ریسرچ رپورٹوں کے وقت پوسٹ کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ایک یا دو روز بعد تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس لیے "لمبے یا مختصر عرصے کے دوران ان کا مکمل درست طور پر تعین کرنا دشوار ہے"۔

دہشت گرد تنظیمیں جن میں داعش شامل ہے، 1.46 لاکھ الکٹرونک پلیٹ فارموں کے ذریعے مختلف ناموں سے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف انتہا پسند اور جارحیت پر مبنی افکار پھیلا رہی ہیں۔

ڈاکٹر المشوح کے نزدیک اہم نکتہ تفاعلی مقابلے میں ہے نہ کہ صرف الکٹرونک مقابلے میں۔ اس سلسلے میں زیادہ پر اثر انداز یہ ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں مکالموں، مباحثوں، تجزیوں، افکار کی درجہ بندی اور پھر ان افکار کو ریزہ ریزہ کرنے کے ذریعے تفاعلی طور پر موجودگی ثابت ہو اور اس کو انسان ہی کرسکتے ہیں"۔

ڈاکٹر المشوح کے مطابق دہشت گرد جماعتیں ایک ویب سائٹ سے دوسری ویب سائٹ اور "ٹوئیٹر، فیس بک اور انسٹاگرام" کے بیچ ایک نیٹ ورک سے دوسرے نیٹ ورک پر منتقل ہونے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ اس کا مقصد مزید نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچنا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر المشوح نے اس طرف توجہ دلائی کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں داعش اور دیگر تنظیموں کا وجود "غیر مستقل مزاجی" کا حامل ہے۔ یہ کچھ عرصے پیچھے ہٹ جاتی ہیں اور پھر اگلے کچھ عرصے میں سرگرم ہوجاتی ہیں۔

ڈیجیٹل جنگ

سال 2014ء میں امریکا نے ایک منصوبے کا انکشاف کیا تھا جس کا مقصد مغربی اور اسلامی دنیا کے ساتھ معلوماتی اتحاد قائم کرنا تھا تاکہ برقی سطح پر بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعے داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے کوششوں میں تعاون کیا جاسکے۔

اس کا اعلان کویت میں ہونے والے ایک اجلاس کے اختتام پر کیا گیا جس میں بحرین، برطانیہ، مصر، فرانس، عراق، اردن، لبنان، سلطنت عمان، قطر، سعودی عرب اور امارات کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ اختتامی بیان کو امریکی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر بھی پوسٹ کیا گیا تھا۔ بیان میں معلومات کے تبادلے سے متعلق پروگراموں کو مضبوط کرنے، حکومتی قیادت اور سرکاری ترجمانوں کے لیے تربیتی پروگرام وضع کرنے اور مذہبی، سماجی اور نوجوانوں کے قائدین کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر شدت پسندی اور تشدد کے خلاف آواز اٹھانے پر سراہے جانے پر زور دیا گیا۔

شدت پسندی کی مہموں کو ناکام بنانا

ڈاکٹر المشوح نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں 4 صورتوں ذکر کیا جن کو دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سوشل میڈیا پر برسرجنگ "سكينہ مہم" اپنے استعمال میں لارہی ہے۔

پہلا : مباحثہ اور مکالمہ یعنی کہ انسانی تفاعل جو دوسری جانب کو سوچنے اور رجوع کرنے کا موقع دے یا اس دہشت گرد تنظیم کے متعلق سوالات کا مرحلہ۔

دوسرا : شرعی فقہ کو پھیلا کر مثبت اور تعمیری طرز فکر کی بنیاد رکھنا۔ یہ کاوش طویل وقت کی محتاج ہے تاہم اس نوعیت کے تصورات کو پھیلانے سے نوجوانوں کی ان دہشت گرد جماعتوں میں شمولیت کو روکا جاسکتا ہے۔

تیسرا : شدت پسند اور سخت گیر ماحول میں مثبت رجحان کے حامل گروپ تیار کرنا۔ اس کے لیے مختلف انداز اور راستے ہیں جو ہم نے 2003 سے انٹرنیٹ پر فورموں اور ویب سائٹوں پر استعمال کیے ہیں اور اب ہم انہیں سوشل میڈیا پر کامیابی کے ساتھ استعمال میں لا رہے ہیں۔

چوتھا : شدت پسند افکار کی حامل مہم کو پسپا کرنے کے لیے ضروری کارروائی کیوں کہ دہشت گرد جماعتیں بھرپور طریقے سے مہم چلاتے ہیں۔ ان کے کام کرنے کا نمونہ ماضی کے مقابلے میں مختلف ہوگیا ہے۔ وہ ایک مقررہ عرصے کے لیے اپنی صلاحیتوں اور طاقت کو بروئے کار لا کر اپنی مہموں کو چلاتے ہیں۔ ہمارا کردار یہ ہوتا ہے کہ ان مہموں کو ناکام بنایا جائے تاکہ یہ اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکیں۔

گفتگو کے اختتام پر ڈاکٹر المشوح نے باور کرایا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس "ٹوئیٹر اور فیس بک" پر پہلے کے مقابلے میں بہتر ردعمل ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ مطلوبہ سطح کا نہیں ہے مگر پھر بھی "قابل ملحوظ بہتری" آئی ہے۔