.

لیبیا: طرابلس میں لڑائی ،فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔یہ لڑائی اقوام متحدہ کی ثالثی میں تشکیل شدہ قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کے عہدے داروں کی شہر میں آمد کے دو ہفتے کے بعد شروع ہوئی ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے نمائندے نے بتایا ہے کہ طرابلس کے شمال میں واقع علاقے حیی الاندلس میں فائرنگ اور چھوٹے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور یہ سلسلہ کوئی تیس منٹ تک جاری رہا تھا۔علاقے سے وفقے وقفے سے فائرنگ اور ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن بجنے کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہی تھیں۔

طرابلس کے اس علاقے میں غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں تشکیل شدہ حکومت سے تعلق رکھنے والے بعض عہدے داروں سمیت بہت سے سیاست دانوں کی قیام گاہیں بھی یہیں ہیں۔

حیی الاندلس میں جھڑپوں سے چند گھنٹے قبل ہی فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں مارک آیرو اور ان کے جرمن ہم منصب فرینک والٹر اسٹینمائیر نے طرابلس کا دورہ کیا تھا۔ان کے اس دورے کا مقصد قومی اتحاد کی اس نئی حکومت کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرنا تھا۔

لیبیا میں وزیراعظم فایزالسراج کی سربراہی میں اس حکومت کی تشکیل کے لیے دسمبر میں معاہدہ طے پایا تھا اور خانہ جنگی کا شکار ملک کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پارلیمان اور طرابلس میں غیر تسلیم پارلیمان نے اس کی ابھی تک منظوری نہیں دی ہے

البتہ ان دونوں پارلیمانوں کے بعض ارکان اپنے طور پر اس کی حمایت کا اظہار کرچکے ہیں جبکہ دارالحکومت میں فجر لیبیا کے تحت حکومت کے وزیراعظم خلیفہ الغویل اس کو تسلیم کرنے اور اقتدار اس کے حوالے کرنے سے انکار کرچکے ہیں۔