.

ایران : فوجی نمائش میں روسی ہتھیار پیش !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران کے جنوب میں فوجی نمائش کے دوران ایس-300 میزائل شکن روسی نظام کا سازوسامان دکھایا گیا۔

ایسنا نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری تصاویر میں میزائلوں کے سلینڈرز اور ریڈار سسٹم کو خاص طور پر دکھایا گیا ہے۔ مذکورہ فوجی نمائش "اسلامی جمہوریہ ایران میں فوج کے دن" کی مناسبت سے منعقد کی جارہی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حیسن جعفر انصاری نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ روس نے ایران کو ایس-300 میزائل شکن نظام فراہم کرنے سے متعلق معاہدے کے "پہلے حصے" پر عمل درامد کرلیا ہے۔

اس معاہدے کے حوالے سے امریکا اور اسرائیل نے روس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس لیے کہ ایس – 300 نظام ایران کو اس کی ایٹمی تنصیبات پر کسی بھی ممکنہ حملے کے کرنے والے طیاروں کو تباہ کرنے کے سلسلے میں ایران کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنا دے گا۔

ایران اور روس کے درمیان 2007 میں ایس – 300 سسٹم کی فراہمی کا معاہدہ ہوا تھا۔ تاہم ماسکو حکومت نے 2010 میں ایرانی نیوکلیئر پروگرام کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد کی پابندی کرتے ہوئے معاہدے کو معطل کردیا تھا۔
2015 میں ایرانی نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدہ ہونے سے قبل ماسکو حکومت نے پھر سے ایس – 300 نظام کی فراہمی کی اجازت دے دی۔

دونوں ممالک کے درمیان ایران کو روسی ساخت کے سوخوی – 30 طیاروں کی فراہمی کے سلسلے میں بھی بات چیت چل رہی ہے۔ اس سلسلے میں بھی واشنگٹن کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے فوجی نمائش کے دوران کہا کہ "ہماری فوجی، سیاسی اور اقتصادی طاقت پڑوسی ممالک اور عالم اسلام کے ملکوں کے خلاف استعمال کے لیے نہیں"۔