.

شام میں جنگ بندی غیر یقینی، مذاکرات جاری رکھنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جزوی جنگ بندی تار تار ہونے کو ہے۔شامی حزب اختلاف نے اس صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بڑی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بحران پر جلد بات چیت کریں جبکہ روس نے شامی فریقوں کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔

شامی حزب اختلاف کے بڑے بلاک کے رابطہ کار ریاض حجاب نے بڑی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مل بیٹھیں اور جنگ بندی کا ازسر نو جائزہ لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت بر سر زمین جنگ بندی کی کوئی پاسداری نہیں کی جا رہی ہے اور اگر شامی عوام کے مصائب جاری رہتے ہیں تو پھر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

ریاض حجاب نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم بین الاقوامی شامی مددگار گروپ کی جانب سے اس شخص کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کے منتظر ہیں جو شامی عوام کو قتل کر رہا ہے''۔انھوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کو جنگی کارروائیوں کے خاتمے کا جائزہ لینا ہوگا۔

انھوں نے حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکرات کمیٹی (ایچ این سی) کے حوالے سے کہا کہ وہ اب مذاکرات میں شریک نہیں ہے ۔البتہ کمیٹی کے بعض ماہرین اجلاسوں میں شریک رہیں گے۔

ریاض حجاب نے ایک مرتبہ پھر حزب اختلاف کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ جب تک صدر بشارالاسد اقتدار رہتے ہیں،شامی بحران کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکے گا۔انھوں نے کہا کہ وہ اور دوسرے عہدے دار منگل کو جنیوا سے واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

دوسری جانب روس نے جنیوا میں شام امن مذاکرات کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے:''ہمارا یقین ہے کہ امن مذاکرات تنازعے کے حل کے لیے ناگزیر ہیں''۔

ترجمان نے بتایا کہ صدر ولادی میر پوتین اور امریکی صدر براک اوباما کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران بھی جنگ بندی اور مذاکرات کا عمل جاری رکھنے سے اتفاق کیا گیا ہے۔

مغرب کی حمایت یافتہ شامی حزبِ اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی نے باغی جنگجوؤں کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ سرکاری فوج کی پیش قدمی کا مطلب جنگ بندی کا خاتمہ ہے۔ اس لیے وہ مذاکرات کو ملتوی کرنے پر زور دے رہی ہے۔

درایں اثناء شام کے شمالی اور وسطی علاقوں میں اسدی فوج اور باغیوں کے درمیان تازہ لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔ اسدی فوج حکومت کے ایک مضبوط گڑھ صوبہ اللذاقیہ پر باغیوں کے حملے کو پسپا کرنے کے لیے کوشاں تھی۔ شامی باغیوں نے سوموار کے روز اسدی فوج کی جانب سے بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد نئے حملے کا آغاز کیا تھا۔

لبنان کی اسد نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے المنار ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری فورسز نے باغیوں کو ان علاقوں سے بے دخل کردیا ہے،جن پر انھوں نے ایک روز قبل قبضہ کیا تھا۔ باغی گروپوں نے جبل الاکراد کے علاقے میں واقع طلعت المالک، نہشابہ اور دوسرے علاقوں کی آن لائن ویڈیوز پوسٹ کی تھیں اور ان کے بارے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے اپنے نئے حملوں کے دوران ان پر قبضہ کر لیا ہے۔