.

غربِ اردن: فلسطینیوں پر حملوں کے الزام میں یہودی دہشت گرد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے غربِ اردن میں فلسطینیوں پر تشدد اور ان کے ایک مکان کو نذر آتش کرنے کے الزام میں چھے یہودی آبادکاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔اسرائیل کی داخلی سکیورٹی کی ذمے دار ایجنسی شین بیت نے ان گرفتار افراد کو ایک یہودی دہشت گرد سیل کا حصہ قرار دیا ہے۔

زیرحراست افراد میں ایک فوجی اور دو کم عمر یہودی بھی شامل ہیں۔انھوں نے 2015ء میں مغربی کنارے کے قصبے دوما میں ایک فلسطینی خاندان کے مکان کو نذرآتش کرنے کے واقعے کی نقل کرتے ہوئے اسی انداز میں ایک اور مکان کو جلانے کی کوشش کی تھی۔

دوما میں آتش زدگی کے واقعے میں ایک فلسطینی جوڑا اور ان کا کم سن بیٹا شہید ہوگیا تھا۔اسرائیل نے دوما میں اس تہرے قتل میں ملوّث ایک یہودی آباد کار پر فرد جرم عاید کردی ہے اور ایک یہودی کو اس کا ساتھی قرار دیا ہے۔اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے عربوں ،عیسائیوں اور فوجی تنصیبات پر حملے کرنے والے یہودی آبادکاروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کررکھا ہے۔

شین بیت نے بدھ کو جن مشتبہ افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے،ان پر ایک فلسطینی مکان پر آتش گیر مادے سے حملہ کرنے،اشک آور گیس کا شیل پھینکنے اور ایک کسان پر حملہ آور ہونے کا الزام ہے۔یہ کسان اس حملے میں زخمی ہوگیا تھا۔

اسرائیلی ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ مشتبہ افراد اپنے حملوں کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ تھے کہ ان سے جانیں بھی جاسکتی ہیں اور انھوں نے دوما میں مہلک حملے سے متاثرہ ہوکر اسی انداز میں فلسطینی مکان کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی تھی۔ان کے خلاف آیندہ دنوں میں فرد جرم عاید کی جائے گی۔

ان گرفتار افراد میں پانچ کا تعلق غربِ اردن کے وسط میں واقع یہودی بستی نہلیل سے ہے اور چھٹے کا تعلق الخلیل شہر کے نزدیک واقع یہودی بستی کیریات عربہ سے ہے۔