.

شام: داعش کا مشرقی شہر دیرالزور کے ایک حصے پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے شام کے مشرقی شہر دیرالزور میں اسدی فوج کے کنٹرول والے ایک علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور اب داعشی جنگجو اس کے ائیربیس کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی مرصد برائے انسانی حقوق نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''داعش نے دیرالزور کے علاقے الصنعا پر منگل کی شب قبضہ کر لیا ہے اور ہوائی اڈے کے باہر لڑائی جاری ہے''۔

دیرالزور کے حکومت کے زیر قبضہ علاقوں میں اس وقت قریباً دو لاکھ شہری موجود ہیں۔داعش کے جنگجوؤں کا دیرالزور کے نام سے ہی صوبے کے باقی حصوں پر قبضہ ہے اور انھوں نے حکومت کے کنٹرول والے علاقوں کو چھیننے کے لیے پہلے بھی متعدد مرتبہ حملے کیے تھے۔

انھوں نے جنوری میں ایک اور علاقے البغلیہ پر قبضہ کر لیا تھا لیکن شامی فوج اب تک ان کے دیرالزور کے ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے حملوں کو پسپا کرچکی ہے۔

ادھر شمالی شہر حلب میں شامی فوج کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے صلاح الدین پر فضائی حملوں میں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔منگل کی شب شام کے شمال مغرب میں القاعدہ کے زیر قبضہ دو قصبوں پر فضائی حملوں میں 44 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

درایں اثناء شامی حکومت نے جنیوا میں امن مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس نے قومی اتحاد کی نئی حکومت کے قیام کے لیے اپنا ویژن پیش کیا ہے جبکہ حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی نے ان مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا ہے۔

جنیوا میں شامی حکومت کے وفد کے سربراہ بشار الجعفری نے کہا ہے کہ حزب اختلاف کی مذاکراتی کمیٹی کے اٹھ جانے کے باوجود بات چیت کا یہ دور جاری رہے گا۔ان کا کہنا تھا ایچ این سی کے بائیکاٹ سے ایک رکاوٹ ہی دور ہوئی ہے اور یہ کمیٹی شامی عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔

بشارالاسد کے اتحادی روس نے شامی حزب اختلاف پر بلیک میل حربے آزمانے کا الزام عاید کیا ہے۔روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایچ این سی کے ہتھکنڈوں سے لگتا ہے کہ وہ ایک معاہدے تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہےاور وہ مذاکرات میں شامی حزب اختلاف کی واحد نمائندہ بھی نہیں ہوسکتی ہے۔

شامی حزب اختلاف کے بڑے بلاک کے رابطہ کار ریاض حجاب نے جنیوا میں سوموار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تھا کہ برسرزمین جنگ بندی کی کوئی پاسداری نہیں کی جارہی ہے اور اگر شامی عوام کے مصائب جاری رہتے ہیں تو پھر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کو جنگی کارروائیوں کے خاتمے کا جائزہ لینا ہوگا۔ریاض حجاب نے ایک مرتبہ پھر حزب اختلاف کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ جب تک صدر بشارالاسد اقتدار رہتے ہیں،شامی بحران کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکے گا۔