.

امریکا کا بی 52 بمبار داعش کے خلاف جنگ میں ان ایکشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فضائیہ نے گذشتہ بیس ماہ سے عراق اور شام میں داعش کے خلاف جاری جنگ میں پہلی مرتبہ اپنا تباہ کن بی 52 بمبار طیارہ استعمال کیا ہے۔

بی 52 بمبار نے عراق کے شمالی شہر موصل کے جنوب میں داعش کے ایک اسلحہ ڈپو پر بمباری کی ہے اور اس کو تباہ کردیا ہے۔امریکی وزیردفاع آشٹن کارٹر نے اسی ہفتے بغداد کا دورہ کیا تھا اور عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں مزید فوجی دستے ،نقد رقوم ،اسلحہ اور آلات بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکا نے داعش کے قلع قمع کے لیے اپنی فوجی مہم تیز کردی ہے اور اس کے کمانڈوز نے اسی ہفتے کرد فوجیوں کے ساتھ مل کر داعش کی ایک سینیر شخصیت سلیمان عبد شبیب الجبوری کے خلاف کارروائی کی تھی۔ وہ داعش کی جنگی کونسل کے رکن تھے اور انھیں اس چھاپا مار کارروائی میں ہلاک کردیا گیا ہے۔

امریکی فوج نے داعش مخالف فضائی مہم میں اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے اور اب بغداد میں موجود ایک تین ستارہ امریکی جنرل داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملوں یا کارروائیوں کے لیے احکامات جاری کیا کریں گے۔اس سے پہلے فلوریڈا میں امریکا کی مرکزی کمان میں تعینات چار ستارہ جرنیل ہدایات جاری کیا کرتے تھے۔کمان میں تبدیلی کا مقصد عام شہریوں کے جانی نقصان کو کم سے کم رکھنا ہے۔

بغداد میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے کہا ہے کہ اس تبدیلی سے شہریوں کی جانوں کے قابل قبول خطرے کے تعیّن سے متعلق معیارات کو کم نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس کا مقصد فضائی حملوں کو زیادہ تیزی سے عملی جامہ پہنایا ہے۔

پینٹاگان نے تسلیم کیا ہے کہ عراق میں اگست 2014ء سے امریکا کی قیادت میں داعش کے خلاف جاری مہم کے دوران چھبیس شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔اس فضائی مہم کے دوران داعش کو گائیڈڈ میزائلوں سے نشانہ بنایا جارہا ہے جس کی وجہ سے عام شہریوں کی ہلاکتیں کم ہوئی ہیں۔تاہم آزاد ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی بمباری میں مرنے والے شہریوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے اسی ہفتے مزید دو سو سترہ فوجیوں کے علاوہ موصل میں داعش کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے اپاچی ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔عراقی فوج موصل کو بازیاب کرانے کے لیے ایک بڑے آپریشن کی تیاری کررہی ہے۔