.

اسرائیل کے خلاف خصوصی ٹرائبیونل قائم کرنے کا مطالبہ

عرب لیگ کی نیتن یاہو کے گولان پر قبضہ برقرار رکھنے سے متعلق بیان کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی نے اسرائیل کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ایک خصوصی فوجداری عدالت قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے یہ مطالبہ قاہرہ میں عرب لیگ کے ایک اجلاس میں کیا ہے۔اس میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اس اعلان کی مذمت کی گئی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ اسرائیل گولان کی چوٹیوں کو کبھی واپس نہیں کرے گا اور ان پر ہمیشہ کے لیے غاصبانہ قبضہ برقرار رکھے گا۔

ڈاکٹر نبیل العربی نے عرب مندوبین کے اجلاس میں کہا کہ اسرائیل اس انداز میں اقدام کررہا ہے، جیسے وہ کسی قانون اور احتساب سے بالا تر ملک ہے۔انھوں نے فلسطینی کاز کے لیے بھی سابق یو گوسلاویہ ،روانڈا ،کمبوڈیا اور سیرالیون کی طرح ایک خصوصی فوجداری عدالت قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اقوام متحدہ کے تحت قائم کی گئی ان عدالتوں میں ان ممالک کے جنگی جرائم میں ملوّث سابق عہدے داروں کے خلاف مقدمات چلائے جاچکے ہیں۔

قاہرہ میں سعودی عرب کے سفیر اور عرب لیگ میں مندوب احمد قطان نے اسرائیل پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ شام میں جاری تنازعے سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔

اجلاس میں عرب لیگ کے اکیس رکن ممالک نے اتفاق رائے سے اسرائیل کے خلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کی ہے۔اس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون اور عالمی ادارے کی قراردادوں کی پاسداری پر مجبور کرے۔

قرارداد کےمسودے میں نیتن یاہو کے گذشتہ اتوار کے بیان کو جارحانہ قراردیا گیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل گولان کی چوٹیوں پر ''اسٹیس کو'' برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ وہ انھیں ضم کرسکے۔

اسرائیل نے 1967ء میں شام ،مصر اور اردن کے خلاف مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران گولان کی چوٹیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔1981ء میں اس نے اس علاقے کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن اس کے اس اقدام کو عالمی برادری نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔

اسرائیلی میڈیا کی اطلاع کے مطابق نیتن یاہو نے گذشتہ اتوار کو گولان کی چوٹیوں پر اپنی کابینہ کا ہفتہ وار اجلاس منعقد کیا تھا اور اس میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اس علاقے کو واپس نہیں کیا جائے گا۔اسرائیل کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ جنگ زدہ شام کے ساتھ مستقبل میں کسی امن معاہدے کی صورت میں اس کو یہ علاقہ واپس کرنا پڑسکتا ہے۔