.

اسرائیلی آبادکاری کے خلاف فلسطینی مجوزہ قرارداد مؤخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں اسرائیلی آبادکاری رکوانے سے متعلق مجوزہ قرارداد کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے بجائے اب فرانس کی مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے حل کے لیے امن کانفرنس پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن نے اسی ماہ کے اوائل میں عرب ممالک اور سلامتی کونسل کے بعض رکن ممالک میں مجوزہ قرارداد کا مسودہ تقسیم کیا تھا مگر اس کو غور کے لیے باضابطہ طور پر کونسل میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔اس میں مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی مذمت کی گئی ہے اور تنازعے کے دو ریاستی حل پر زوردیا گیا ہے۔

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی کا کہنا ہے کہ اب اس مسودے پر مزید کام موخر کردیا جائے گا اور اس کے بجائے فرانسیسی اقدام پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔اس کے تحت 30 مئی کو پہلا وزارتی اجلاس منعقد ہوگا۔

انھوں نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ'' سلامتی کونسل میں ہماری تحریک سے فرانسیسی اقدام کو کسی بھی طرح نقصان نہیں پہنچنا چاہیے''۔انھوں نے یہ بات فلسطینی صدر محمود عباس کی چینی سفیر لیو جائی ژی سے ملاقات کے بعد کہی ہے۔چینی سفیر اس ماہ سلامتی کونسل کی صدارت کررہے ہیں۔

بعض سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ فرانس ،مصر اور سعودی عرب نے فلسطینیوں کی حوصلہ شکنی کی ہے کہ وہ سلامتی کونسل میں قرارداد پیش نہ کریں کیونکہ اس طرح امریکا پر اس کو ویٹو کرنے کے لیے دباؤ پڑے گا۔

یاد رہے کہ سلامتی کونسل سنہ 2011ء میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کی مذمت میں قرارداد منظور کرنے میں ناکام رہی تھی کیونکہ امریکا نے اس کو ویٹو کردیا تھا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اسی ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ انھوں نے اسرائیلی بستیوں کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد منظور کرانے کی کوئی جلدی نہیں ہے کیونکہ وہ تنازعے کے دوریاستی حل کو بچانا چاہتے ہیں۔

ادھر پیرس میں فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں مارک آیرو نے کہا ہے کہ مئی میں اجلاس میں اس سال کے دوسرے حصے میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کی تیاری کی جائے گی۔اس کانفرنس میں اسرائیلی اور فلسطینی لیڈر بھی شریک ہوں گے۔واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن عمل اپریل 2014ء سے منجمد چلا آرہا ہے۔