.

ہمارے فوجی اہلکار شام نہیں گئے: ایرانی چیف کمانڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرچہ ایران اپنے بیانات میں شام کے محاذوں پر اپنے عسکری اہل کاروں کی موجودگی پر فخر کا اظہار کرتا رہا ہے تاہم ایرانی فوج کے چیف کمانڈر میجر جنرل خرج عطاء اللہ صالحی کی جانب سے ایک دلچسپ بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ "گرین بیریٹس" کے نام سے معروف ایرانی فوج کا بریگیڈ 65 شام نہیں گیا۔ صالحی کا یہ بیان شام کے شہر حلب کے نواح میں مذکورہ بریگیڈ کے متعدد ارکان کی ہلاکت کی خبروں کے بعد سامنے آیا ہے ۔

ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے مطابق میجر جنرل صالحی نے بتایا کہ "مشاورتی عسکری فورس" کو شام بھیجنا یہ فوج کی ذمہ داری نہیں ہے اور ایک دوسرا ادارہ (پاسداران انقلاب) عسکری اہل کاروں کو بھیج رہا ہے۔

ایران کی معروف نیوز ایجنسیوں کے مطابق اس طرح کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ تہران نے شام میں پاسداران انقلاب اور اس کے زیر انتظام ملیشیاؤں کی سپورٹ کے لیے ایرانی فوج کے کمانڈوز کے خصوصی دستوں کو بھیجا ہے۔ اس بات کا ایرانی فوج کے چیف کمانڈر انکار کرتے ہیں تاہم ساتھ ہی وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی فوج کے بعض افراد رضاکارانہ طور پر گئے ہیں اور وہاں "ذمے دار ادارے" (پاسدارن انقلاب) کے ما تحت ہیں۔

اس سے قبل ایرانی فوج کے ڈپٹی جنرل کوآرڈی نیٹر علی آراستہ نے پاسداران انقلاب کے زیرانتظام نیوز ایجنسی تسنیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بریگیڈ 65 کے ارکان شام میں جاری جنگ میں بطور "مشیر" شریک ہیں۔

تہران حکومت نے ایرانی فوج کے "گرین بیریٹس" کو بشار الاسد کی حکومت کے دفاع کے سلسلے میں بھیجے جانے کے ایک ہفتے بعد ان میں سے متعدد اہل کاروں کی تدفین کا اعلان کیا اگرچہ اس سے قبل مشکل معرکوں کے لیے ان کی تیاری سے متعلق بلند و بانگ دعوے کیے گئے تھے۔