.

کویت: باغیوں کے وفد کا عبوری اتھارٹی تشکیل دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعيل ولد الشيخ احمد نے کویت میں حکومت اور باغیوں کے وفود سے مشاورت کی جس کا محور یمن میں لڑائی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے تجویز کردہ عام حکمت عملی تھا۔

مشاورتی نشستوں میں جامع عملی ڈھانچے اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار کے علاوہ مختلف فریقوں کے درمیان کوآرڈینیشن کو پیش کیا گیا جو آئندہ مرحلے کے لیے ابتدائی تصوراتی خاکہ ہے۔ اس میں یمن کی صورت حال کے سیاسی ، سیکورٹی اور اقتصادی زاویے شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2216، خلیج تعاون کونسل کے منصوبے اور یمن کے قومی مکالمے کی کانفرنس کے نتائج کی خطوط پر اس ابتدائی خاکے کو تیار کیا۔

اقوام متحدہ کے ایلچی نے بتایا کہ مشاورتی نشستوں کی فضا بڑی حد تک مثبت رہی اگرچہ بات چیت میں فریقین کے آئندہ مرحلے کے تصور میں کافی اختلاف نمایاں رہا۔

ادھر کویت میں امن بات چیت میں شریک یمنی حکومت کے وفد کے ذرائع نے بتایا کہ سرکاری وفد نے خصوصی ایلچی کو اپنا سیکورٹی اور عسکری بالخصوص شہروں اور صوبوں سے ملیشیاؤں اور مسلح گروپوں کے انخلاء اور ہتھیار حوالے کرنے سے متعلق اپنا ویژن پیش کیا۔

تاہم مذاکرات کے نزدیکی ذرائع کے مطابق باغیوں کے وفد نے سیکورٹی اور فوجی معاملے میں جانے سے انکار کریا۔ وفد نے سیاسی حل سے متعلق اپنا ویژن پیش کیا، جس میں عبوری اتھارٹی اور قومی یکجہتی کی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ شامل تھا جو اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت ایجنڈے کی بقیہ شقوں پر عمل درامد کی نگرانی کرے۔

دوسری جانب یمن کے دارالحکومت صنعاء کے مشرق میں بالخصوص نہم کے محاذ پر شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے دوران گولہ باری اور راکٹ باری بھی ہوتی رہی۔ حوثی ملیشیاؤں اور صالح کی فورسز کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد یہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران ہونے والی شدید ترین جھڑپیں تھیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیاؤں اور صالح کی فورسز نے نہم کے محاذ پر سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں میں دراندازی کی کوشش کی جس کے نتیجے مین فریقین کے درمیان شدید جھڑپیں پھوٹ پڑیں۔

اس دوران عوامی مزاحمت کاروں اور سرکاری فوج نے ملیشیاؤں کی جانب سے جبل احمر تک پہنچنے کے لیے نیا راستہ نکالنے کی کوششیں ناکام بنا دیں۔ اس کا مقصد جنگ بندی کے دوران چکر دے کر سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں تک پہنچنا تھا۔

الجوف میں عوامی مزاحمت کاروں نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ملیشیاؤں کی جانب سے مسلسل سولہویں روز مختلف محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔