.

اسرائیلی بس میں بم دھماکا مزاحمت کا ثبوت ہے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس میں گذشتہ ہفتے ایک بس میں بم دھماکا حماس کے اسرائیل کی مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار ہے۔

یہ بات غزہ کی پٹی میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیئہ نے ہزاروں فلسطینیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے اسلامی تحریک کے فدائی عبدالحمید ابو سرور کے دلیرانہ اقدام کی تعریف کی ہے۔

اس بیس سالہ نوجوان نے 18 اپریل کو مقبوضہ بیت المقدس میں ایک بس میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔اس کے نتیجے میں بیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔اسرائیلی پولیس کا کہنا تھا کہ حماس کے ایک جنگجو نے بس پر حملہ کیا تھا۔

اسماعیل ہنیئہ نے کہا کہ اس بم دھماکے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حماس اور اس کے بیٹے مزاحمت کے لیے پُرعزم ہیں اور وہ انتفاضہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم صہیونی قابض کو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ محاصرے میں زیادہ دیر نہیں رہ سکتے ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا حق ہے کہ ہمارے پاس بندرگاہ اور ہوائی اڈا ہو۔ اسرائیل نے 2006ء سے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کر رکھا ہے اور اس کے باسی نان جویں کو ترس رہے ہیں۔

اسرائیلی فورسز مقبوضہ بیت المقدس اور غرب اردن میں فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور ان کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 203 ہوچکی ہے۔ان میں سے 130 کے بارے میں اسرائیلی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آور تھے۔ان کے مبینہ چاقو حملوں ،فائرنگ یا اپنی گاڑیوں کو راہ گیروں پر چڑھانے کے واقعات میں 28 اسرائیلی ، دو امریکی ،ایک سوڈانی اور ایک ایریٹرین شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔