.

عراق : کار شورومز اور فش فارمز سے داعش کی جیب میں لاکھوں ڈالر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں عدلیہ حکام نے بتایا ہے کہ "داعش" تنظیم گاڑیوں کے شورومز اور فش فارمز کے ذریعے ماہانہ لاکھوں ڈالر کما رہی ہے۔ زمینی طور پر ہزیمتوں سے دوچار ہونے کے بعد تیل کی آمدن کی کمی کو شدت پسند تنظیم اس طرح پورا کررہی ہے۔

اس سے قبل بین الاقوامی اتحاد نے تنظیم کو درپیش نقدی کی سنگین کمی کا انکشاف کیا تھا۔ متعدد رپورٹوں میں بھی اس جانب اشارہ کیا گیا کہ کئی وجوہات کی بنا پر داعش کی آمدن میں واضح کمی اور مالی بحران نے تنظیم کو ہلا کر رکھ دیا۔

مالی رقوم کی کمی نے "داعش" کو اپنے جنگجوؤں سے یہ مطالبہ کرنے پر مجبور کردیا کہ وہ بجلی کا استعمال کم کردیں اور اپنے ذاتی مقاصد کے لیے تنظیم کی گاڑیوں اور دیگر مشینوں کا استعمال روک دیں۔

مذکورہ دستاویزات کے مطابق "داعش" نے اپنے جنگجوؤں کی تنخواہیں بھی آدھی کر دی ہیں۔ عراقی شہر موصل اور شام کے شہر الرقہ میں داعش کے زیرانتظام کرنسی گوداموں پر حملوں نے تنظیم کی کمر توڑ ڈالی تھی۔

داعش میں شمولیت اختیار کرنے والے غیرملکی جنگجوؤں کی تعداد میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے اور یہ تعداد ماہانہ 1500 یا 2000 جنگجوؤں سے کم ہو کر تقریبا 200 تک آگئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شدت پسند تنظیم اخراجات کو پورا کرنے اور تنخواہوں کی ادائیگی کی قدرت نہیں رکھتی ہے۔

تنظیم کو درپیش سنگین مالی بحران نے جنجگوؤں کے مورال پر بھی اثر ڈالا ہے جس کے سبب بعض جنگجو بیماری کی چھٹی لینے پر مجبور ہوگئے تاکہ فرنٹ لائن میں لڑائی سے اجتناب کیا جاسکے جب کہ بعض دیگر جنجگوؤں نے حتمی طور پر "داعش" کو چھوڑ دینے کی کوشش کی۔

ماہرین کے مطابق پیسہ وہ سب سے بڑا عامل ہے جو جنجگوؤں کو "داعش" کی صفوں میں شامل ہونے کی کشش دلاتا ہے تاہم مالی خسارے اور مالی رقوم کی فراہمی کے مراکز کی کمزوری کے نتیجے میں شدت پسند تنظیم اپنے جنگجوؤں کو کھو دے گی اور تنظیم میں انحراف بھی واضح طور پر نظر آئے گا۔