.

کویت : حوثیوں کی خلاف ورزیوں سے امن مذاکرات کو خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل کے مطابق یمن کے وزیر خارجہ اور کویت مذاکرات میں سرکاری وفد کے سربراہ عبدالمالک المخلافی نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعيل ولد الشيخ احمد کو اس امر سے آگاہ کر دیا ہے کہ حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کی جانب سے تعز، مارب، نہم اور الجوف کے محاذوں پر مسلسل عکسری خلاف ورزیاں، کویت میں جاری یمنی امن بات چیت کے لیے سنجیدہ نوعیت کا خطرہ ہیں۔

کویت میں جاری مذاکرات میں فریقین کی ترجیحات میں واضح اختلافات ہیں تاہم اقوام متحدہ کے وساطت کار اسماعيل ولد الشيخ احمد کے نزدیک بات چیت کی فضا مثبت ہے۔

تقریبا ایک ہفتے تک تنازعات اور انفرادی مشاورت کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والے مذاکرات میں ان حساس امور کو زیربحث لایا جائے گا جن پر بات کرنے سے باغیوں کا وفد بھاگ رہا ہے۔

یمنی حکومت کے وفد نے انخلاء، ہتھیار اور ریاستی ادارے حوالے کرنے اور سیاسی منتقلی کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کر دیے ہیں۔

یہ وہ نکات ان ہی امور پر مشتمل ہیں جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے اندر موجود ہیں۔ تاہم حوثی اور صالح کے وفد کی دیگر ترجیحات ہیں جن میں عرب اتحادی افواج کے فضائی حملوں کا روکا جانا، محاصرہ ختم کیا جانا، عبوری اتھارٹی کی تشکیل جس کے بعد ہتھیاروں اور ریاستی اداروں کو مذکورہ عبوری اتھارٹی کے حوالے کیے جانے کے طریقہ کار پر بات چیت شامل ہیں۔

یمنی ذرائع کے مطاقب باغیوں کا مقصد یہ ہے کہ وہ اس عبوری اتھارٹی پر غالب رہیں جب کہ آئینی حکومت کے وفد کا مطالبہ ہے کہ پہلے ہتھیاروں اور ریاست کے اداروں کی حوالگی پر بات کی جائے اور پھر اس کے بعد رضامندی سے تشکیل دی گئی حکومت کا معاملہ زیر بحث لایا جائے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی ٹیم یہ کوشش کررہی ہے کہ مختلف مواقف کے درمیان رضامندی کا کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے۔ اس طرح کی خبریں بھی گردش میں ہیں کہ ولد الشیخ نے حکومتی وفد کے ساتھ مشترکہ مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کے لیے حوثیوں کی رضامندی حاصل کرلی ہے جس میں ہر فریق کے چار ارکان شریک ہوں گے۔ یمنی حکومت کے ذرائع نے باور کرایا ہے کہ باغیوں کی مسلسل ہٹ دھرمی کے سبب ابھی تک مشاورت کے انجام کے حوالے سے کوئی چیز واضح نہیں ہے۔