.

حوثی "بشار الاسد" کی تصاویر اٹھائے صنعاء کی سڑکوں پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی دارالحکومت صنعاء میں ہفتے کے روز حوثی باغیوں کے حامیوں کی جانب سے ریلیاں نکالی گئیں جن میں شریک افراد نے ہاتھوں میں شامی صدر بشار الاسد کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ اس منظر سے عام یمنی شہریوں میں وسیع پیمانے پر بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ مذکورہ ریلیاں حوثیوں کے سابق مقتول سربراہ بدرالدین الحوثی کی برسی کے موقع پر نکالی گئیں۔

اس موقع پر صنعاء میں باغیوں کے سیکڑوں حامی بشار الاسد کی تصاویر اور شام کے پرچم اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے۔

یمنی شہریوں نے اس عمل کو یمنی عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف قرار دیا جو بشار الاسد کی حکومت کے ہاتھوں بدترین قتل عام کا نشانہ بننے والے شامیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس قتل و غارت گری کے سلسلے کی آخری کڑی حلب میں ہونے والی وحشیانہ کارروائیاں ہیں، جن میں بشار حکومت نے دھماکا خیز مواد سے بھرے ڈرم استعمال کیے۔ اس کے نتیجے میں سیکڑوں عورتیں اور بچے جاں بحق ہو گئے۔ اس کے علاوہ طبی مراکز اور ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جو کہ ایسا جرم ہے جس کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔

سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کے نزدیک صنعاء میں جو کچھ ہو رہا ہے اس نے باغیوں اور ان کے حامیوں کے موقف کی حقیقت کھول دی ہے۔ ایران جو اپنے طویل المدت مقاصد پورا کرنے کے لیے خطے کو توڑنے اور اسے فرقہ وارانہ لڑائی کے گرداب میں پھنسانا چاہتا ہے، حوثی باغی اس کے ہاتھوں میں آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار سعید احمد کے مطابق حوثیوں کی جانب سے بشار الاسد کی تصاویر اٹھانا درحقیقت تین فریقوں کو خوش کر دینے والا واقعہ ہے اور وہ ہیں ایران، بشار حکومت اور حزب اللہ تنظیم۔ یہ عمل مذکورہ تینوں فریقوں کی جانب سے حوثیوں کو ملنے والی براہ راست یا بالواسطہ حمایت پر تشکر کا اظہار بھی ہے۔