.

سیاسی بحران، عراق کے تین اہم اداروں کا ہنگامی اجلاس

بغداد افراتفری کے دھانے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کی جانب سے اصلاحات کے مطالبے اور حکومت کی جانب سے کابینہ میں مخصوص کوٹے کے خلاف احتجاج کا دائرہ تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ ادھرملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے بغداد میں ایوان صدر میں آج اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں صدر فواد معصوم، وزیراعظم حیدر العبادی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری شرکت کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ریاست کے تین اہم سربراہان کا اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد کیا جا رہا ہے کہ بغداد کے گرین زون میں الصدر کے حامیوں کا دھرنا جاری ہے۔ گذشتہ روز مظاہرین گرین زون کی حدود پھلانگ کر اندر داخل ہونے کے بعد پارلیمنٹ پر چڑھ دوڑے تھے جہاں مظاہرین اور ارکان پارلیمان کے درمیان ہاتھاپائی بھی ہوئی۔ تاہم بعد ازاں پولیس نے گرین زورن خالی کرالیا تھا۔

ادھر عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ احتجاج اور دھرنے کے لیے مختص مقام سے آگے نہ بڑھیں، سرکاری اور عوامی املاک کی تورپھوڑ سے گریز کریں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ گرین زون پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کنٹرول میں ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج پوسٹ کی گئی ہے جس میں وزیراعظم کو گرین زون کے اندر السلام پیلس کے قریب دیکھا گیا ہے جہاں وہ امن امان کی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ بغداد کے گرین زون میں پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان صدر، وزیراعظم سیکرٹریٹ، کیبنٹ ڈویژن کے علاوہ امریکا اور کئی ملکوں کے سفارت خانے بھی واقع ہیں۔

عراق افراتفری کےدھانے پر

درایں اثناء عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری نے خبردار کیا ہے کہ اگرملک میں جاری سیاسی بحران کو دانشمندی سے حل نہ کیا گیا تو ملک بدترین اتفراتفری کا شکار ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ملک کو سیاسی انارکی سے بچانے کے لیے جدو جہد جاری رکھیں گے۔

بغداد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے الجبوری کا کہنا تھا کہ آئین ساز ادارے[پارلیمنٹ] کی اقدار اور اس کی طاقت اصل عوام کی طاقت ہے اور ارکان پارلیمان ہی قوم کے حقیقی نمائندے ہیں۔

ادھر عراقی صدر فواد معصوم نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کی آڑ میں قانون ہاتھ میں لینے کے خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ اس لیے مظاہرین ارکان پارلیمنٹ، سرکاری ملازمین، عوامی اور سرکاری املاک پرحملوں سے باز رہیں۔

صدر نے وزیراعظم، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور تمام سیاسی جماعتون کے پارلیمانی رہ نماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالنے اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے آئین سازی کریں۔