.

عراقی وزیراعظم کا بغداد میں مظاہرین کو گرفتار کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں سکیورٹی فورسز اور ارکان پارلیمان پر حملوں اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ میں ملوّث افراد کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

حیدرالعبادی نے یہ حکم شعلہ بیان شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کے سیکڑوں حامیوں کے گرین زون میں واقع پارلیمان کی عمارت پر دھاوے کے ایک روز بعد دیا ہے۔حکومت مخالف مظاہرین نے ہفتے کے روز پارلیمان میں گھس کر توڑ پھوڑ کی تھی اور دیواروں کو ڈھا دیا تھا۔اس کے بعد وزیراعظم نے پارلیمان کی عمارت کا معائنہ کیا تھا اور ویڈیو فوٹیج میں انھیں ٹوٹے پھوٹے فرنیچر کے پاس سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

سوشل میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آنے والی ویڈیوز میں نوجوانوں کے ایک گروپ کو پارلیمان کے دو ارکان کا گھیراؤ کرتے اور انھیں تھپڑ مارتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔دوسرے مظاہرین نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرنے والے ارکان پارلیمان کی گاڑیوں کو روک لیا تھا۔

مظاہرین ڈانس کرتے اور خوشیاں مناتے ہوئے پارلیمان کے ہال میں گھس گئے تھے اور وہاں وہ میزوں پر چہکتے ہوئے عراقی پرچم لہرا رہے تھے۔بعد میں وہ وہاں سے باہر نکل آئے تھے اورانھوں نے ہفتے کی رات نزدیک واقع ایک چوک میں ریلی نکالی تھی۔

مقتدیٰ الصدر اور ان کے حامی عراق میں مروج سیاسی نظام میں اصلاحات کے لیے گذشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج کررہے ہیں اور وہ موجودہ حکومت کی جگہ ٹیکنو کریٹس پر مشتمل غیر جانبدار حکومت کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ بیشتر سیاسی دھڑے ان کے مطالبات کی مزاحمت کررہے ہیں۔مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے آج اتوار کو بھی گرین زون میں دھرنا دینے کا اعلان کررکھا ہے۔

بغداد میں اقوام متحدہ کے مشن نے حالیہ حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔اس نے ایک بیان میں عراق کے منتخب نمائندوں کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے اور اس نازک مرحلے پر عراق کے آئینی اداروں کے احترام اور ضبط وتحمل کی ضرورت پر زوردیا ہے۔