.

میزائل حملے میں شامی ڈاکٹر کی ہلاکت کی وڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہفتے کے روز منظرعام پر آنے والی المناک وڈیو نے دیکھنے والوں کی آنکھوں کو اشک بار کر دیا۔ وڈیو میں بدھ کے روز حلب شہر میں "ڈاکٹروں کی غیر سرحدی تنظیم" کے زیرانتظام القدس ہسپتال پر بشار الاسد کی فورسز کی جانب سے میزائل حملے کا منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ میزائل حملے میں "علاقے میں بچوں کے بہترین معالج" شمار کیے جانے والے ڈاکٹر محمد وسیم معاذ کو جاں بحق ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ حملے میں محمد کے علاوہ ایک دانتوں کے ڈاکٹر، 3 نرسوں اور 22 شہریوں نے بھی اپنی جانوں کو گنوا دیا جب کہ درجنوں مریض اور ہسپتال کے ملازمین زخمی ہو گئے۔

وڈیو میں ڈاکٹر معاذ کو اپنے کام میں منہمک دیکھا جا سکتا ہے، وہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں آ جا رہے تھے کہ اچانک آنے والے میزائل نے ان کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔ یہ میزائل گویا کہ بشار الاسد اور اس کی فورسز کی جانب سے "ڈاکٹروں کی غیر سرحدی تنظیم" کے لیے ایک "تحفہ" تھا۔ تنظیم 1971 میں وجود میں آئی اور رواں سال اس کے قیام کو 45 برس پورے ہو گئے ہیں۔

حملے کے بعد سے ڈاکٹر معاذ کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا تاہم ان کی ذاتی زندگی کی زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ بہرکیف تمام آراء کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ ایک پیشہ ور ڈاکٹر تھے جنہوں خود کو بچوں کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ ان کے گھروالے ترکی منتقل ہو گئے تھے تاہم وہ حلب میں ہی ٹھہرے رہے، دن بھر بچوں کے وارڈ میں کام کرتے جب کہ رات میں ایمرجنسی وارڈ میں خدمات سرانجام دیتے۔

بیروت میں "ڈاکٹروں کی غیرسرحدی تنظیم" کے بیورو کی ترجمان ميريلا حديب کے مطابق حلب کے شہریوں کی خدمت میں دن رات جُتے ہوئے ڈاکٹر معاذ "القدس ہسپتال" سے طویل عرصے سے وابستہ تھے اور "ان کے نقصان کی تلافی نہیں ہوسکے گی"۔

شام میں تنظیم کے مشن کی سربراہ ميسكيلڈا زنكاڈا نے بھی ڈاکٹر معاذ کی ہلاکت کو "المیہ" قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق "حلب شہر کے مشرقی حصے میں ابھی تک سکونت پذیر 2.5 لاکھ سے زیادہ افراد کے لیے صرف 70 یا 80 ڈاکٹر باقی رہ گئے ہیں کویں کہ 95 ٪ ڈاکٹر کوچ کر چکے ہیں یا پھر ہلاک ہوچکے ہیں"۔