.

ٹریننگ کے دوران خامنہ ای کا محافظ کرنل ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی سیکیورٹی پر مامور کرنل کے عہدے کا ایک افسر ٹریننگ کے دوران ہلاک ہو گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق پاسداران انقلاب کی سرکاری ویب سائیٹ پر جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حفاظتی دستے میں شامل کرنل حسن اکبری تربیتی مشقوں کے دوران ہلاک ہو گیا۔

ایران کی ’’سبا نیوز‘‘ ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ کرنل حسن اکبری کی موت تربیتی مشقوں کے دوران اسلحے میں تکنیکی خرابی کے باعث واقع ہوئی ہے۔ ہلاک ہونے والے فوجی افسر کا تعلق پاسداران انقلاب ’’ولی الامر‘‘ یونٹ سے تھا جو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہی ہے۔

کرنل حسن اکبری کی ہلاکت کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم اس حوالے سے ایرانی میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں پائی جا رہی ہیں۔ بعض ذرائع حسن اکبری کی ہلاکت کو باضابطہ منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ماضی میں پیش آنے والے واقعات کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔ اس سے قبل سابق صدر محمود احمدی نژاد کے ذاتی محافظ عبداللہ باقری شام کے شہر حلب میں ہلاک ہو گئے تھے۔ جب کہ جامعہ تہران کے امام آیت اللہ امامی کاشانی کے محافظ محسن فرامرزی کو بھی پچھلے سال دسمبر میں حلب میں پراسرار حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

سپریم لیڈر کا حفاظتی عملہ

ایران کی طاقت ور شخصیت سمجھے جانے والے رہبر انقلاب اسلامی [مرشد اعلیٰ] آیت اللہ علی خامنہ ای کے حفاظتی عملے کے بارے میں تفصیلات ایک دستاویزی فلم میں سنہ 2009ء میں سامنے آئی تھیں۔

’خامنہ ای کی زندگی کے سربستہ راز‘ کےعنوان سے جاری ہونے والی اس ڈاکومینٹری میں بتایا گیا تھا کہ خامنہ ای کی حفاظت پر700 اہلکار مامور ہیں جو دو حصوں میں تقسیم ہیں۔ ان میں 200 افراد پر مشتمل ایک گروپ فدائین اور انتہائی مقربین پر مشتمل ہے جو سپریم لیڈر کی رہائش گاہ ، ان کے شاہی محل اور سفرمیں سیکیورٹی کے فرائض انجام دیتا ہے۔

خامنہ ای کے حفاظتی عملے میں شامل اہلکاروں کی خصوصی تعلیم وتربیت کی جاتی ہے تاکہ وہ حسب ضرورت سپریم لیڈر پراپنی جان چھڑکنے سے بھی گریز نہ کریں۔ ان کے مقرب محافظوں کوروایتی ایرانی افسروں کی بیٹیوں سے شادی سے منع کیا جاتا ہے اور ولایت فقیہ کے روحانی مقرب خاندانوں کے ہاں ان کی شادیاں کرائی جاتی ہیں۔

سپریم لیڈر کی حفاظت پر مامور دوسرے گروپ میں 500 اہلکار شامل ہیں جن میں سے 40 خامنہ کے اہل خانہ کی سیکیورٹی پر مامور ہیں۔ سرکاری سطح پر نہ صرف خامنہ ای کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کی جاتی ہے بلکہ ان کی بیگمات، بیٹوں، بیٹیوں حتیٰ کہ پوتے اور پوتیوں کو بھی سیکیورٹی حاصل ہوتی ہے۔ موجودہ سپریم لیڈر کی حفاظت پرکل 10 ہزار افراد متعین ہیں۔ ان میں دو اہلکاروں دین شعاری اور حسن جباری کو خامنہ کے ’خدام خاص‘ کا درجہ حاصل ہے اور وہ گذشتہ 30 سال سے دن رات سپریم لیڈر کی خدمت کرتے چلے آ رہے ہیں۔