.

بغداد : مقتدی الصدر کے حامیوں کے "ایران باہر ایران باہر" کے نعرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اتوار کے روز عراقی دارالحکومت بغداد کے لیے فضائی پروازیں روک دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان عراق کے معاملات میں تہران کے رسوخ اور ایرانی پاسداران انقلاب میں فیلق القدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی مداخلتوں کے خلاف عراقی مظاہرین کی زبردست نعرے بازی کے بعد سامنے آیا ہے۔ عراق میں شیعہ رہ نما مقتدی الصدر کے حامیوں نے جنہوں نے بغداد میں پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بول کر کابینہ کی عمارت کا محاصرہ کرلیا تھا، ہفتے کے روز گرین زون میں دھرنا دیا۔

دھرنے کے دوران مظاہرین نے ایرانی رسوخ کے خاتمے اور تہران کے عراقی امور میں مداخلت سے دور رہنے کا صریح مطالبہ کرتے ہوئے "ایران باہر ، ایران باہر" کے نعرے لگائے۔

ادھر ایرانی اقدام کے حوالے سے ایران کےحج اور زیارت مشن کے سربراہ سعید اوحدی نے اخباری بیان میں اتوار کے روز سے بغداد کے لیے تمام پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کا سبب عراقی دارالحکومت کی بگڑتی صورت حال کو بتایا گیا ہے جب کہ انہوں نے نجف شہر کے لیے پروازوں کے دوبارہ آغاز کی تصدیق کی۔

ایرانی ذمہ دار نے امن و امان کی خراب صورت حال اور شورش کی بنا پر اپنے ہم وطنوں کو ان دنوں میں بغداد کا رخ کرنے سے خبردار کیا۔

ادھر ہفتے کے روز بغداد کے حساس ترین علاقے گرین زون میں مقتدی الصدر کے حامیوں کی جانب سے ایران اور پاسداران انقلاب میں فیلق القدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے خلاف زبردست نعرے بازی دیکھنے میں آئی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وڈیوز کے مطابق مظاہرین "إيران برا برا ..بغداد تبقى حرة" (ایران باہر نکلو.. بغداد آزاد رہے گا) اور "يا قاسم سليماني.. هذا الصدر رباني ".(اے قاسم سلیمانی.. یہ ہے الصدر ربانی) کے نعرے لگا رہے تھے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے عراقی پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بولنے کی وجہ سے مقتدی الصدر اور ان کے حامیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ یہ کارروائی اس سیاسی عمل کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی جو تہران نواز عراقی حکومت کے زیر قیادت جاری ہے۔