.

سابق حوثی رہ نما اسرائیل کا دورہ کرے گا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثیوں کے سابق رہ نما علی البخيتی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکنوں کے ساتھ اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ یمنی یہودیوں سے ملاقات کریں گے۔

یمن میں قومی مکالمے کی کانفرنس میں حوثیوں کی ترجمانی کے فرائض انجام دینے والے علی البخیتی نے بتایا کہ یہ دورہ فلسطینی پاسپورٹ کے ذریعے ہوگا۔ دورے کا مقصد یمنی یہودیوں کو اپنے آباؤاجداد کی سرزمین اور اصل وطن دیکھنے کے لیے آنے میں درپیش مشکلات کو زیربحث لانا ہے اس لیے کہ ان لوگوں کے پاس یمنی سفری دستاویزات نہیں ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ "فيس بک" پر اپنے صفحے پر کیے جانے والے پوسٹ میں البخیتی کا کہنا ہے کہ "ان افراد کو اسرائیلی دستاویزات کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اس مسئلے کو حل کیے جانے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے کوئی ایسا راستہ نکالا جائے جس سے یہ لوگ اپنے اصلی وطن کا دورہ کرسکیں تاہم اس دوران مذکورہ کارروائی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی پہلو نہیں ہوگا"۔

دوسری جانب بعض ذرائع نے اس دورے کے مقصد پر شکوک کا اظہار کیا ہے جس کا ارادہ علی البخیتی اور دیگر کارکنان رکھتے ہیں۔ بالخصوص اس لیے کہ دورے کا اعلان، داخلی فریقوں کی ساز باز سے متعدد یمنی یہودیوں کی اسرائیل منتقلی کے بعد سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس امر کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا کہ یہ دورہ، یمنی یہودیوں کو اسرائیل فرار کرانے سے متعلق اس معاہدے کی ایک کڑی ہو جو چند ماہ قبل طے پایا ہے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے حوثیوں کی جماعت میں ان داخلی فریقوں اور صنعاء میں دیگر فریقوں کو لاکھوں ڈالر ادا کیے ہیں جنہوں نے یہودیوں کو فرار کرانے کی کارروائی کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان یہودیوں کے پاس تورات کا نادر و نایاب نسخہ ہے۔