.

ایرانی مرشد اعلی کی جانب سے شام میں نیا نمائندہ مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی نیوز ایجنسی مہر نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے مرشد اعلی علی خامنہ ای نے اتوار کے روز ابوالفضل طباطبائی اشکذری کو شام میں اپنا نیا نمائندہ مقرر کیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق ابوالفضل شام میں مجتبی حسینی کی جگہ "ولايت فقیہہ" کے ادارے کے نمائندے ہوں گے۔ مجتبی حسینی کو کچھ عرصہ قبل بغداد میں خامنہ ای کے مندوب محمد مہدی آصفی کے رخصت ہونے کے بعد عراق میں مرشد اعلیٰ کا نمائندہ بناکر بھیجا گیا تھا۔

خامنہ ای کی جانب سے شام میں اپنے نئے نمائندے کا تقرر ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایرانی میڈیا شام بالخصوص حلب شہر میں بشار الاسد کی حکومت کی جانب سے قتل عام کے بارے میں حقائق کو مسلسل توڑ موڑ کر پیش کررہا ہے۔ گزشتہ نو روز کے دوران حلب شہر کو بارودی ڈرموں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

ادھر ابوالفضل طباطبائی اشکذری کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ابوالفضل نے بدھ کے روز علی خامنہ ای سے ملاقات کی اور سرکاری طور پر شام میں اپنی نئی ذمہ داری سنبھالی۔ ابوالفضل کے مطابق وہ جلد ہی شام منتقل ہوجائیں گے اور آنے والے دنوں میں اپنے پروگرام کے بارے میں اعلان کریں گے۔

اس سے قبل علی خامنہ ای کے نزدیک سمجھے جانے والے مہدی طائب نے کہا تھا کہ "شام درحقیقت ایران کا 35 واں صوبہ ہے"۔ بعض ایرانی ویب سائٹوں کے مطابق خامنہ ای کی جانب سے شام میں اپنے نئے مندوب کے تقرر کے فیصلے کے ساتھ یہ جملہ بھی موجود تھا۔