.

حامیوں کے "ایران باہر نکلو" کے نعرے.. مقتدی الصدر تہران میں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں الصدری تحریک کے سربراہ مقتدی الصدر پیر کے روز نجف سے ایران روانہ ہوگئے۔ ادھر بغداد میں اتوار کے روز دھرنا دینے والے مظاہرین نے (جن میں اکثریت مقتدی الصدر کے حامی ہیں) مطالبات پورے ہونے کے انتظار میں گرین زون میں عارضی طور پر مظاہرے ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل ہفتے کے روز مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بول کر متعدد ارکان پارلیمنٹ پر چڑھائی کر دی تھی۔ مظاہرین نے ایران مخالف نعرے لگاتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سیاسی طور پر عراق سے نکل جائے۔

دوسری جانب نجف ایئرپورٹ پر سرکاری ذرائع نے بتایا کہ "الصدری تحریک کے سربراہ پیر کی صبح نجف ایئرپورٹ سے ایران کے لیے روانہ ہوگئے۔ ایرانی فضائی کمپنی کے طیارے میں مقتدی الصدر کے ہمراہ دو مذہبی شخصیات بھی تھیں"۔

مقتدی الصدر نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ دو ماہ کے لیے سیاسی سرگرمیوں سے علاحدہ ہو رہے ہیں۔ الصدر کا یہ اعلان اصلاحات کے منصوبے کے تحت آزاد وزراء کے لیے ووٹنگ کے سلسلے میں پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد کرانے میں ناکامی کے بعد سامنے آیا۔

یاد رہے کہ بغداد میں مظاہرین نے جن میں اکثریت الصدری تحریک کے حامیوں کی تھی ہفتے کے روز گرین زون میں داخل ہو کر پارلیمنٹ اور حکومت کے صدر دفتر پر دھاوا بول دیا۔ اس اقدام کا مقصد آزاد ٹکنوکریٹس وزراء کی حکومت پر رضامندی اور اقتدار پر غالب سیاسی جماعتوں کے وزراء کی برطرفی کے لیے پارلیمنٹ پر دباؤ ڈالنا تھا۔ اس موقع پر الصدری تحریک کے حامیوں نے "ایران باہر باہر" کے نعرے لگاتے ہوئے پاسداران انقلاب کے ذیلی بریگیڈ فیلق القدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔