.

حلب میں تشدد کے تازہ واقعات میں بیسیوں ہلاک اور زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ باغی گروپوں نے حلب میں منگل کے روز ایک بڑا حملہ کیا ہے اور شہری علاقوں پر راکٹ برسائے ہیں جس کے نتیجے میں بیسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔حملے میں ایک اسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

شامی فوج کی کمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فائر کے منبع کی جانب مناسب جواب دیا جارہا ہے۔اس نے القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ ،احرار الشام اور جیش الاسلام پر ان حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ باغیوں نے حلب میں حکومت کے کنٹرول والے مغربی علاقوں پر راکٹ فائر کیے ہیں۔اس نے ایک اور اطلاع میں بتایا ہے کہ شام میں داعش کے خودساختہ دارالخلافہ الرقہ پر ساری رات شدید بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں تیرہ شہری اور پانچ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ یہ فضائی حملے شامی حکومت کے تحت فوج نے کیے ہیں،اس کے اتحادی روس کے لڑاکا طیاروں نے کیے ہیں یا امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا جیٹ نے یہ بمباری کی ہے۔شامی رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ گذشتہ کئی ہفتوں سے الرقہ پر اس طرح کی شدید بمباری نہیں کی گئی ہے۔یہ فضائی حملے سوموار کی شب شروع ہوئے تھے اور منگل کی صبح تک جاری رہے تھے۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے شام میں جنگی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں فروری میں امریکا اور روس کی ثالثی میں طے پائی شام میں جنگ بندی کو سراہا اور اس کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوبارہ اس جنگ بندی کے نفاذ کے لیے ہم سب کی مدد کریں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے بھی قبل ازیں ایک بیان میں حلب اور اس کے نواحی علاقوں مِں لڑائی میں شدت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے دمشق اور اللاذقیہ کے علاوہ حلب میں بھی فوری طور پر جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔