.

النصرۃ محاذ نے حلب میں جنگ بندی منصوبہ ناکام بنادیا: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وزارت دفاع نے شام کے شمالی شہر حلب میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ پر جنگ بندی منصوبے کو ناکام بنانے کا الزام عاید کیا ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے منگل کے روز اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی مستورا سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ''حلب میں عارضی جنگ بندی کے لیے سمجھوتا طے پانے کو ہے۔روسی اور امریکی حکام آیندہ چند گھنٹوں میں اس فیصلے کا اعلان کریں گے''۔ لیکن اس طرح کی جنگ بندی عملی شکل اختیار نہیں کرسکی ہے۔

روس کے خبررساں اداروں نے وزارت دفاع کے ترجمان آئیگور کوناشکوف کا بدھ کو یہ بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''النصرۃ محاذ کے الزرقا کوارٹرز اور دوسرے رہائشی علاقوں پر حملوں اور گولہ باری کے نتیجے میں شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں اور حلب میں فائربندی میں رخنہ پڑ گیا ہے''۔

حلب میں حالیہ دنوں کے دوران میں شامی فوج اور باغی گروپوں کے درمیان خونریز لڑائی ہوئی ہے۔اس کے بعد سے امریکا اور روس کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی ٹوٹ گئی ہے۔اس پر فروری سے عمل درآمد کیا جارہا تھا۔البتہ داعش اور النصرۃ محاذ پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔

مسٹر کوناشکوف نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ روس اور امریکا کے فوجی افسر اب شامی حکومت کی قیادت اور اعتدال پسند باغی گروپوں سے حلب میں جلد سے جلد فائربندی متعارف کرانے کے لیے مشاورت کررہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ''حلب اور اس کے نواحی علاقوں میں پہلے چوبیس گھنٹے کے لیے جنگ بندی کا منصوبہ تھا اور پھر اس کو مزید دو روز کے لیے توسیع دی جانا تھی''۔

حلب میں باغی گروپوں نے منگل کو شامی حکومت کے عمل داری والے علاقوں پر ایک بڑا حملہ کیا تھا اور ایک اسپتال پر بھی راکٹ فائر کیے تھے۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ اس شمالی شہر میں حکومت کے کنٹرول والے علاقے میں باغیوں کے راکٹ حملوں میں انیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس علاقے میں واقع الضابط اسپتال میں متعدد افراد مارے گئے تھے۔

ادھر شامی دارالحکومت دمشق کے مشرق میں واقع باغیوں کے مضبوط گڑھ مشرقی الغوطہ پر مبینہ طور پر شامی فوج نے بائیس فضائی حملے کیے ہیں۔اس علاقے میں مقامی سطح پر جنگ بندی جاری تھی اور اس کی منگل کی نصف شب مدت ختم ہوگئی تھی۔اس کے بعد شامی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی تھی۔فوری طور پر اس لڑائی اور فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

امریکا اور روس کے درمیان گذشتہ ہفتے مشرقی الغوطہ کے علاقے اور ساحلی صوبے اللاذقیہ میں ایک ہفتے کے لیے عارضی جنگ بندی ہوئی تھی۔مشرقی غوطہ میں ابتدائی طور پر چوبیس گھنٹے کے لیے لڑائی روکی گئی تھی۔پھر اس میں دو مرتبہ توسیع کی گئی اور منگل کی شب یہ مدت ختم ہوگئی تھی۔دمشق میں ایک فوجی ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس میں تیسری مرتبہ توسیع نہیں کی گئی ہے۔