ایران میں گرفتار خاتون کارکن کے لیے "بہترین صحافی" کا انعام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم "نامہ نگار بلا سرحدیں" (RSF) نے تہران کی بدنام زمانہ جیل "اوین" میں زیرحراست ایرانی خاتون صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن نرجس محمدی کے لیے سال 2016 کے "میڈیا ہیروئن" پرائز کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ نرجس "حکام کے ہاتھوں تشدد اور دباؤ کے باوجود اپنی ثابت قدمی اور مزاحمت" کے سبب اس انعام کی مستحق ہیں۔

دنیا بھر میں صحافیوں کے حقوق کے فاع سے متعلق تنظیم کے مطابق نرجس محمدی چار ملکوں سے تعلق رکھنے والی ان چار صحافی شخصیات میں شامل ہیں جن کو رواں سال کے لیے "عالمی صحافت کے ہیروز" کے طور پر منتخب کیا گیا۔

یہ پرائز ایران، ترکی، افغانستان اور بورونڈی کے صحافیوں کو ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب دنیا بھر میں عالمی ادارے ہر سال تین مئی کو آزادی صحافت کا عالمی دن منا رہے ہوتے ہیں۔

تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی کارکن اور صحافی نرجس محمد کے شوہر تقی رحمانی نے پیرس کی میئر سے اپنی اہلیہ کا انعام وصول کیا اس لیے کہ نرجس تہران کی جیل میں ہیں۔

ایران میں انسانی حقوق کے دفاع کرنے والوں کے مرکز کی سربراہ کو مئی 2015 میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ان پر "ایرانی نظام کے خلاف پروپیگنڈے" اور "قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے" کے الزامات تھے۔ نرجس کی جانب سے سزائے موت کے خاتمے اور سیاسی قیدیوں اور دیگر گرفتار شدگان کے دفاع کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

نرجس محمدی کو انسانی حقوق کے میدان میں معروف ترین ایرانی کارکنان میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہیں کئی بار گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا جس میں مشہور ترین واقعہ 2011 میں تھا جب ایرانی پاسداران انقلاب کی عدالت نے ان کے خلاف 12 سال جیل کا فیصلہ جاری کیا تھا اور بعد ازاں اس میں 6 سال کی کمی کرنے کا اعلان کردیا۔

2007 میں نرجس کو گرفتار کرکے "ایون" کی جیل میں ایک تنگ کوٹھڑی میں ڈال دیا گیا جہاں وہ بدترین طبی مسائل سے دوچار ہوئیں۔

اپریل کے مہینے میں نرجس محمدی کو تہران میں دیگر الزامات کے تحت انقلابی عدالت میں پیش کیا گیا اگرچہ وہ متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں اور تقریبا ایک سال سے اپنے دونوں بچوں سے ملاقات سے بھی محروم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں