.

بغداد : گرین زون میں مظاہرین کی چڑھائی، کمانڈر برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے دارالحکومت بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں گذشتہ ہفتے کے روز مظاہرین کی چڑھائی کے بعد اسپیشل فورسز کے کمانڈر اسٹاف لیفٹینٹ جنرل محمد رضا کو برطرف کردیا ہے۔

عراق کے شعلہ بیان شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کے ہزاروں حامیوں نے گرین زون میں پارلیمان پر دھاوا بول دیا تھا،وہاں توڑ پھوڑ کی تھی اور بعض ارکان پارلیمان کو مارا پیٹا تھا۔عراقی فورسز انھیں پارلیمان میں گھسنے سے روکنے اور وہاں توڑ پھوڑ سے باز رکھنے میں ناکام رہی تھیں۔

عراق کی مشترکہ آپریشنز کمانڈ کی جانب سے بدھ کی رات گئے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق:''وزیراعظم نے کمانڈر رضا کو برخاست کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کی جگہ میجر جنرل کریم عبود التمیمی کو نیا کمانڈر مقرر کیا ہے''۔

برطرف کمانڈر مارچ کے آخر میں گرین زون میں مقتدیٰ الصدر کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے ہوئے بھی دیکھے گئے تھے۔وہ اپنے حامیوں کے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے گرین زون میں داخل ہوئے تھے اور انھوں نے تب وہاں اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دیا تھا۔

اب ان کے حامی جمعے کو دوبارہ بغداد میں حکومت مخالف مارچ کرنا چاہتے ہیں اور وہ ایک مرتبہ پھر گرین زون میں داخل ہونے کی کوشش کرسکتے ہیں۔مقتدیٰ الصدر اور ان کے حامی پارلیمان سے وزیر اعظم حیدر العبادی کی مجوزہ کابینہ کی منظوری کا مطالبہ کررہے ہیں۔

عراقی پارلیمان ان کی جانب سے ماضی میں دی گئی ڈیڈلائن کے مطابق ٹیکنوکریٹس پر مشتمل اس نئی مجوزہ کابینہ کی منظوری دینے میں ناکام رہی ہے۔عراق کے بااثر سیاسی گروپ اس کابینہ کی مخالفت کررہے ہیں اور وہ موجودہ کابینہ کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اس کے ذریعے ہی وزارتوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکتے ہیں۔

عراقی تجزیہ کار طایف جینی نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''قلعہ نما گرین زون میں پارلیمان اور عوام کے درمیان حقیقی معنوں میں ایک دیوار حائل ہے۔حکومت اپنا کاروبار ہم یعنی عوام سے کسی قسم کی مشاورت کے بغیر چلاتی ہے بلکہ آہنی تاروں ،محافظوں اور کنکریٹ کی دیواروں نے پارلیمان اور عوام میں ایک دیوار کھڑی کررکھی ہے''۔

جینی کا کہنا تھا کہ ''گرین زون میں پارلیمان ،حکومت اور امریکا اور برطانیہ کے سفارت خانے واقع ہیں اور یہاں ملک کے مقتدر سیاست دان رہتے ہیں۔ان کا عوام سے کوئی رابطہ ہی نہیں ہے۔اس لیے شہریوں میں ان کے خلاف غم وغصہ کے جذبات پائے جاتے ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ جب آپ ہمارے ساتھ رہتے ہی نہیں ہیں تو ہماری نمائندگی کیسے کرسکتے ہیں''۔انھوں نے کہا کہ گرین زون میں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے آیندہ مظاہروں کے پیش نظر صورت حال سنگین ہوسکتی ہے۔