.

اقوام متحدہ :دربدر شامیوں کے کیمپ پر بمباری کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ نے شام کے شمالی صوبے ادلب میں خانہ جنگی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کے ایک کیمپ پر فضائی حملوں کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور اسٹیفن او برائین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ '' اگر اس حملے کے بارے میں تحقیقات سے یہ پتا چل جاتا ہے کہ شہری ڈھانچے کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا تھا،تو یہ جنگی جُرم ہوگا''۔

ادلب میں سرمدہ کے نزدیک واقع بے گھر افراد کے کیمپ پر جمعرات کو فضائی بمباری میں خواتین اور بچوں سمیت اٹھائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس علاقے پر القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ اور اس کے اتحادی باغی گروپوں کا قبضہ ہے۔

اوبرائن نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''میں بے گھر افراد کی دو بستیوں پر فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کی خبر پر دہشت زدہ اور افسردہ ہوا ہوں''۔واضح رہے کہ ادلب اور حلب میں گذشتہ ہفتوں کے دوران لڑائی میں شدت کے بعد مزید ہزاروں شامی بے گھر ہوگئے ہیں اور ان کی پناہ کے لیے ترکی کی سرحد کے نزدیک عارضی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ یہ فضائی حملے شامی فوج نے کیے تھے،اس کے اتحادی روس کے لڑاکا طیاروں نے کیے تھے یا امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا جیٹ نے شامیوں کے کیمپوں پر فضائی بمباری کی ہے۔

اس سے قبل شام میں فروری میں جاری جنگ بندی میں توسیع کے لیے سفارتی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوسکی ہیں اور شام کے صرف چند ایک علاقوں پر مقامی سطح پر ہی جنگ بندی پر عمل کیا جارہا ہے جبکہ حلب میں خاص طور پر شامی فوج اور باغی گروپوں کے درمیان خونریز لڑائی جاری ہے اور روسی طیارے بھی باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔

حلب میں حالیہ دنوں کے دوران میں شامی فوج اور باغی گروپوں کے درمیان لڑائی میں شدت کے بعد سے امریکا اور روس کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی ٹوٹ چکی ہے۔اس پر فروری سے عمل درآمد کیا جارہا تھا۔البتہ داعش اور النصرۃ محاذ پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔روس کی وزارت دفاع نے بدھ کو ایک بیان میں حلب میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ پر جنگ بندی منصوبے کو ناکام بنانے کا الزام عاید کیا ہے۔